Tuesday, March 1, 2011

معصوم دہشت گرد: ناکردہ گناہوںکی سزا کاٹ رہے ہیں مسلم نوجوان

ابو ظفر عادل اعظمی

سوامی اسیما آنند کے مکہ مسجد،سمجھوتہ ایکسپریس،مالیگاﺅں اور دیگر دھماکوںمیں اعتراف جرم کے بعد ان دھماکوں میں پہلے گرفتار مسلم نوجوانوں کی رہائی اور ان کی بازآبادکاری کے نام پر سیاست گرماگئی ہے۔مختلف مقامات پر جہاں عوامی مظاہرے ہوئے ہیں وہیں ملی و قومی رہنماﺅں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شدگان کی فوراً رہائی عمل میں آئے اور حکومت ان کو معاوضہ بھی دے۔

ستمبر 2006کے مالیگاﺅ ں ،فروری2007میں سمجھوتہ ایکسپریس اورپھر مئی 2007میں مکہ مسجد میں ہوئے دھماکوں میں پولیس اورسرکاری ایجنسیوں نے درجنوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اور بہتوں کو غیر قانونی تحویل میں رکھا اور اس دوران ان پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے گئے ان میں سے بہترے نوجوان آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ناکردہ جرائم کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیںجھیل رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے شہر مالیگاو ¿ں میں ستمبر 2006کو ہونے والے دھماکوں کو 4 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اس معاملے میں فرضی طور سے ماخوذ کئے گئے مسلم نوجوان اب بھی قید وبند کی صعوبتیںبرداشت کر رہے ہیں
مالیگاو ¿ں دھماکوں کے تین ماہ بعد شدیدعوامی دباو ¿ کے تحت حکومت نے دسمبر 2006ءمیں یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کردیا تھا ۔لیکن 3سال کی طویل مدت گزرنے کے بعد ابھی تک سی بی آئی عدالت میں75صفحات پرمشتمل جزوی رپورٹ ہی داخل کر پائی ہے۔سوامی اسیما آنند کے اعتراف جرم کی بعد سی بی آئی نے ممبئی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے مذکورہ کیس کی دوبارہ تفتیش کی اجازت مانگی ہے جب کہ دھماکے کے ملزمین نے عدالت سے ضمانت پررہاکرنے کی درخواست کی ہے۔ لہذا نانڈیر بم دھماکوں کی طرح اس معاملے میں بھی سی بی آئی کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔
8ستمبر 2006کو مالیگاو ¿ں میں حمیدیہ مسجد ، بڑا قبرستان اور مشاورت چوک پر سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے جب شب برات اور جمعہ کا دن ہونے سے جمعہ کی نماز میں کافی زیادہ بھیڑ تھی ۔39لوگ ان دھماکوں میں ہلاک اور 4سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں میںتقریباً سب کے سب مسلمان تھے۔ لیکن حکومت اور اے ٹی ایس نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کا بھی الزام مسلمانوں کے سر تھوپا اور پے در پے سیمی کے نام پر 9مسلم نوجوانوں کو دھماکہ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ان ملزمین پر مہاراشٹر آرگنائزکرائم کنٹرول ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔ اے ٹی ایس نے اپنی چارج شیٹ میں ایک ملزم ابرار احمد غلام احمد (38سال) کو وعدہ معاف گواہ کے طور پر پیش کیا۔ ابرار احمد اس قت ممبئی کی بائیکلہ جیل میںقید ہے ۔ لیکن اس معاملے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ابرار نے اپنے حلف نامے کے ذریعے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے پولیس نے جھوٹا پھنسایا ہے اور اس دھماکے میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو وہ نہیںجانتا۔ ابرار احمد نے 14صفحات پر مشتمل طویل حلف نامہ میں جو حیرت انگیز باتیں کہیںتھیںوہ کچھ یوں ہےں۔
مورخہ 22ستمبر 2006کو راج وردھن صاحب نے مجھے اور میری بیوی کو چند پولیس والوں کے ساتھ ناسک جانے کے لئے کہا ۔ ہمیں جگتاپ ہوٹل کے ملے میںایک کمرہ میں رکایا گیا ۔دوسرے دن ہم کو پولیس گاڑی میں بٹھا کر مدھیہ پردیش کے شہر جاورالے جایا گیا۔وہاں ایک ہوٹل میں دو روز رکھا گیا پھر وہاں سے اندور لے جایا گیا جہاں ایک مسلم لاج میںٹھہرایا گیا۔ دوسرے دن ہمیں اجین کے کچھ مندروں میں لے جایا گیا۔سادھو اور سادھوی سے ملاقات کرائی گئی اور پھر اجین کے بھولا ناتھ مندر میںایک کشمیری سادھو سے ملاقات کرانے کے لئے ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جہاں کلوز سرکٹ کیمرے لگے تھے ۔ اس طرح تقریباً9دن ہمیںمختلف جگہوں پر پولیس والے لے جاتے رہے۔ اس درمیان ہمارے ساتھ پولیس کا نسٹبل نانا، روی، کرن کباڑی اوردیسائی وغیرہ ہم سفر تھے۔ اس درمیان ہمارے فوٹو اور ویڈیو شوٹنگ بھی کی گئی۔ جس میں سادھو اوربھگوارنگ کے لباس پہنے ہوئے لوگ تھے۔
”ہماری دیولالی میںایک فوجی آفیسر سے ملاقات کروائی گئی۔ جہاں ہمیں رکھاگیا تھا ،وہ فوجی آفیسر بھی اس عمارت میں رہتا تھا۔ ان کے ساتھ ہمیںکھانا بھی کھلایا گیا اورہمارا ایک ساتھ فوٹو بھی لیا گیا۔اسی درمیان چند سادھوو ¿ں سے ملایا گیا تصویریں لی گئی اور کہیں کہیں موبائیل سے بھی فوٹو لیا گیا اور موبائل کے ذریعے بات چیت بھی ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران ہماری ATSوالوں سے بھی ملاقات کرائی گئی۔ اور مجھے بلاسٹ کا چشم دید گواہ بنا کر ان سے متعارف کرایا گیا۔ گذشتہ دنوں اخبار میںبھکّو چوک بم بلاسٹ کے تعلق سے اخبارات میں پکڑے گئے لوگوں کی تصویریں چھپی تھیں۔ جس میں اس فوجی افسر کی تصویر بھی تھی جس سے مجھے ملایا گیا تھا جس کے ساتھ مجھے کھانا کھلایا گیا تھا۔‘
” جیل میں مجھے معلوم ہوا کہ مالیگاو ¿ں میں بھکّو چوک پر دوسرا بم بلاسٹ ہوا تھا اور ایک سادھو ی پکڑی گئی ہے۔اتفاق سے بائیکلہ جیل میں ہی بھکو چوک بم بلاسٹ کی ملزمہ، سادھوی پرگیہ سنگھ کورکھا گیا ہے۔ اسے دیکھتے ہی میں اسے پہچان گیا یہ تو وہی سادھوی عورت ہے جس سے میری ملاقات اجین میں ہی کروائی گئی تھی۔ “
گرچہ اس حلف نامہ کی قانونی حیثیت ایک سرکاری گواہ کے بیان بدلنے سے زیادہ نہیں تھی لیکن اس میں جن باتوں کا تذکرہ ہے، اس کا تسلسل ماضی قریب کے بم دھماکوں اور ہندو دہشت گردوں کی دوسری سرگرمیوں سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔کیوں کہ اس واقعے کے چند ماہ ہی پہلے آر ایس ایس بجرنگ دل ، شیوسینا جیسی انتہا پسند تنظیموں کے ارکان مالیگاو ¿ںکے قریبی علاقے، پربھنی جالنہ، پونا، اورنگ آباد، اور نانڈیر کی مساجد میں بم دھماکوں کے واقعات میں ملوث پائے گئے تھے۔ ان میں سب سے اہم معاملہ نانڈیر کا تھا جہاں آر ایس ایس کا ایک معروف کارکن لکشمن راج کونڈدار کے مکان پر بم بنانے کی خفیہ فیکٹری کا پتہ اس وقت چلا، جب بجرنگ دل کے دوکارکن نریش راج کونڈواراہ، ہمانشو بم بناتے وقت اتفاقاً دھماکہ ہونے سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے، جب کہ ان کے کچھ ساتھی جائے واردات سے فرار ہونے میںکامیاب ہوگئے تھے۔ پولیس نے اس فیکٹری سے ایک ڈائری بھی برآمد کی تھی جس میںکچھ مساجد کے نام پتے اور نقشے تھے۔ اس کے علاوہ وہاں سے پولیس نے نقلی داڑھیاں مسلمانوں جیسے ملبوسات اور ٹوپیاں وغیرہ بھی برآمد کی تھیں۔
مالیگاو ¿ں دھماکے میں پولیس کو ابتدائی تفتیش میں ایک نقلی داڑھی اور لاوارث لاش ملی تھی لیکن چند دنوں بعد میڈیا میں بھی اس کا دوبارہ تذکرہ نہیں ہوا۔ دھماکوں کے فوراً بعد راحت رسانی کے کاموں میں سرگرم اور عینی شاہد مقیم انصاری کے مطابق اس نے جب ایک لاش ایمبولینس میں ڈالی تو اس کے ہاتھ میںنقلی داڑھی آگئی ۔ ایک دوسرے عینی شاہد مولانا عبد القیوم کوثری نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بعد ازاں پولیس نے یہ لاش غائب کردی۔
لیکن اے ٹی ایس نے ان تمام امکانات کے باوجود 9مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے پورا معاملہ حل کرنے کا دعویٰ کیااورابمکوکا قانون کے تحت یہ معاملہ خصوصی عدالت میں ہے۔
مالیگاو ¿ں کے مخبر افراد اور دیگر ملی تنظیموں اور مخلص وکلاءنے سخت جانفشانی سے تقریباً 4سو صفحات پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کی جس میں مختلف گواہوں ،زخمیوں اور ملزمین کے اہل خانہ کے بیان بھی شامل ہیں۔ جس کے ساتھ کچھ اہم حصے ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں شامل ہیں۔
مساجد اور قبرستان میں دھماکہ ہونے پر پولیس کے ذریعہ سیمی کا نام لئے جانے اور 9مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے پر عوام میں ناراضگی پائی جارہی تھی لوگوں کویہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ایک اسلام پسند تنظیم مسجدوں اور قبرستانوں میںدھماکے کیسے کرسکتی ہے۔ مالیگاو ¿ں کی ایک اہم شخصیت اور ملی محاذ کے قائد مولانا عبدالحمید ازھری ایک مشکل سوال کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کیا ایسی تنظیم جو بابری مسجد کی بازیابی کی کوششوں کو لے کر عتاب کا شکار ہوئی ہو، وہ کسی مسجد میں دھماکہ کر سکتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہم اول روز سے کہہ رہے ہیں کہ اس میں کوئی مسلمان ہرگز ملوث نہیں ہوسکتا“
دوسری طرح گرفتار شدگان پر ان 4سالوں میں تشدد کی انتہا کردی گئی، مہینوں پولیس ریمانڈ میںمارپیٹ کے علاوہ ان کا متعدد بار نارکو ٹیسٹ کروایا گیا۔ ان کو ناکردہ جرائم کے اعتراف کے لئے تشدد ، دھمکی اور لالچ دی گئی۔
پولیس ریمانڈ کے علاوہ ان پر عدالتی تحویل میں جیل میںبھی تشددہوا۔ تشدد اور ہولناک اذیت کا اندازہ لگانے کے لئے ملزمین کے ذریعہ دھماکوں کی دوسری برسی پر مرتب کی گئی رپورٹ مالیگاو ¿ں بم دھماکہ کیس آخر سچ کیا ہے ؟ سے ہوتا ہے۔ اس دھماکے میں آرتھر ملزم ممبئی کی ارتھ روڈ جیل میں قیدہیں۔ ملزمین کی اس رپورٹ اور مکہ مسجد دھماکہ کے ملزمین کی روداد کافی دردناک ہے یہ پولیس کی ایک بہیمانہ طویل اور خوفناک کہانی ہے جس کا کچھ منظرنامہ یوںہے۔
ملزم کو ایک خاص قسم کے ساو ¿نڈ پروف کمرے میں لے جایا جاتا ہے جہاں سے اس کی آواز باہر نہیں جاسکتی ملزم کے سارے کپڑے اتار کر برہنہ زمین پر بٹھا دیا جاتا ایک پولیس والا ملزم کے پیچھے کھڑے ہوکر خود کے دونوں پیر ملزم کے ہاتھوں کے یبچ ڈال دیتا ۔ اب ملزم کے دنوں پیر مخالف سمت میں پھیلائے جاتے ہیں یہاں تک کہ دونوں پیر دائیں بائیں بالکل سیدھے ہوجاتے ہیں۔ جو 180 ڈگری کا زاویہ بناتے ہیں۔ کبھی کبھی اور زیادہ پھیلا دیا جاتا ہے تکلیف کی وجہ سے ملزم پوری طاقت لگا کر چیختا ہے۔ مگر اس کی آواز ساو ¿نڈ پروف کمرے میں دب کر رہ جاتی ہے اس ٹارچر کی وجہ سے خون کا پیشاب کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔
ملزم کے چہرے پر ایک نقاب ڈال کر خاص قسم کی گیس چھوڑی جاتی ہے جس کی وجہ سے پورے بدن میں سوجن ہوجاتی ہے۔ اب اگر اس کے بدن کے کسی بھی حصہ کو ذرا بھی دبائیے، تو ملزم تکلیف سے چلا اٹھتا ہے اور ایک مخصوص تیل جیسے سوریہ پرکاش تیل کہتے ہیں، ناک میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے کئی گھنٹوں تک چہرے پر جلن ہوتی رہتی ہے اب تو پولیس اتنی حیوان ہوگئی ہے کہ اس تیل کو انجکشن کے ذریعہ ملزمین کے عضو تناسل (شرمگاہ) میںڈالاجاتا جس کے درد کی وجہ سے ملزم تڑپتا رہتا ہے۔ پولیس اس بات کی بھی دھمکی دیتی ہے، ملزم کے گھر والوں کو جبرا اٹھا کر پولیس اسٹیشن لایاجائے گا اور ان کو ملزمین کے سامنے اذیت دینے کی دھمکی دی جاتی ہے، جو ملزم کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ جس کے ڈر کی وجہ سے ملزم پر ناکردہ گناہ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
پاور لوم میں استعمال ہونے والا بڑا پٹہ کا مضبوط بیلٹ بنایا جاتا ہے اور اس پٹہ سے ہتھیلی ، تلوے اور بدن کے دیگر حصوں پر جیسے سر، پیٹھ، جانگ، وغیرہ پر مارا گیا جس کی وجہ سے ہتھیلی ، تلوے کارنگ نیلا پڑ جاتا ہے۔ اور پیروں پر سوجن آجاتی ہے، بدن لہو لہان ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ملزم کا سونا، بیٹھنا مشکل ہوجاتاہے ۔ اے ٹی ایس پولیس کے پاس ایک مشین ہے جس سے کرنٹ پیدا کرکے کرنٹ کے جھٹکے دئیے جاتے ہیں۔ اس مشین سے لگے دو تاروں کو ملزم کے دونوں کانوں یا پھر پیر کے دونوں انگوٹھوں پر باندھا جاتا ہے اس کے بعد مشین چلائی جاتی ہے جس سے زبر دست جھٹکے شدت کے ساتھ لگتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر پولیس نے انسانیت کی حدوں کوپھلانگ کر ان تاروں سے بے گناہ ملزمین کی شرم گاہوں پر کرنٹ کے جھٹکے دئیے۔
نارکو ٹیسٹ کے دوران ملزمین سے پوچھا جاتا ’کیا تم نے بم رکھا“؟ بے قصورملزم جواب دیتا ہے کہ میں نے ”بم نہیں رکھا۔“ اب سی ڈی ایڈٹ کرتے وقت اس جملے سے ”نہیں“ کو انتہائی صفائی سے کٹ کردیا جاتا ۔ جس سے جملہ بن جاتا ہے ”میں نے بم رکھا۔“
مالیگاو ¿ں میں دوبارہ دو سال بعد 29ستمبر 2008کو رمضان میں دھماکے ہوئے جس میں 6افراد ہلاک ہوئے اور 89لوگ زخمی ہوئے۔ اے ٹی ایس نے 11ملزمین کو گرفتار کیا جس میں ایک فوجی افسر اور ایک سبکدوش منیجر شامل ہیں۔ اے ٹی ایس نے ان کے خلاف 4528صفحات کی چارج شیٹ داخل کی ہے جس میں ان کے اسرائیل اور کچھ دیگر ممالک سے دہشت گردانہ رشتہ کی بات سامنے آتی تھی۔ لیکن اس پورے معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابرار احمد کی کرنل پروہت سمیت سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر وغیرہ کی ملاقات پولیس اور اے ٹی ایس نے 2006ءہی میں کرائی تھی۔یہ ایک نیا پہلو تھا جسے مہاراشٹر اے ٹی ایس نے قطعی طورپر نظر انداز کیاہے۔
اب چار سال کی مدت گزرجانے کے بعد دھماکوںکے اصل مجرم نے بذات خود اپنا جرم قبول کر لیا توبے گناہ مسلم نوجوان تادم تحریر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی ہیں۔
اس موقع پر بہت سارے منہ ان کی حمایت میں بھانت بھانت کی بول رہے ہیں۔جب کہ ان کی گرفتاری کے وقت سیاست دانوں سے لے کر میڈیا اوربیوروکریسی نے جو گھناﺅنا کام کیا اس کی بھرپائی کیسے ہوگی یہ ایک مشکل سوال ہے۔آخر ان کی شبیہ کو داغ دار کرنے کے لیے بڑی بڑی سنسنی خیز سرخیاں لگانے والے ان ”مجاہدوں “ کی زبانیں آج کنگ کیوں ہیں۔آج وہ اسی طرح ان کے باعزت بری ہونے کے موقع پر سرخیاںلگانے سے کیوںکترارہے ہیں؟ یہ ایک ا ہم سوال ہے جس کاجواب انتہائی اہم اور مشکل ترین ہے۔آزاد ہندوستان کی آزاد کہی جانے والی صحافت اورصحافتی برادری کے لیے یہ سوال ایک چیلنج بن کر کھڑا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ سنگین الزام کی بنیادپر گرفتاری اورچند سالوں کے بعد بے قصور قرار دئے جانے کایہ واقعہ کوئی نیا ہے۔لیکن افسوس کامقام ہے کہ ایسے ناکردہ جرائم کی پاداش میں برسوںقید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اورپھر باعزت بری ہوجانے کے بعد بھی ہمارا معاشرہ ان کو وہ مقام دینے سے قاصر رہاہے جس کے وہ حق دار ہیں۔





Published at Monthly Afkar-e-Milli February 2011

Wednesday, February 23, 2011

Saturday, February 19, 2011

برصغیر میں پائیدار امن پورے عالم کی ضرورت پاکستان کے نامور صحافی طارق محمود شام سے ایک ملاقات

برصغیر میں پائیدار امن پورے عالم کی ضرورت
پاکستان کے نامور صحافی طارق محمود شام سے ایک ملاقات
ملاقاتی : ابو ظفر عادل اعظمی

Saturday, February 12, 2011

Suleiman: The CIA’s man in Cairo

Opinion
Suleiman: The CIA’s man in Cairo
Suleiman, a friend to the US and reported torturer, has long been touted as a presidential successor.
Lisa Hajjar

Suleiman meets with Israeli president Shimon Peres in Tel Aviv, November 2010 [Getty]
On January 29, Omar Suleiman, Egypt’s top spy chief, was anointed vice president by tottering dictator, Hosni Mubarak. By appointing Suleiman, part of a shake-up of the cabinet in an attempt to appease the masses of protesters and retain his own grip on the presidency, Mubarak has once again shown his knack for devilish shrewdness. Suleiman has long been favoured by the US government for his ardent anti-Islamism, his willingness to talk and act tough on Iran – and he has long been the CIA’s main man in Cairo.

Mubarak knew that Suleiman would command an instant lobby of supporters at Langley and among ‘Iran nexters’ in Washington – not to mention among other authoritarian mukhabarat-dependent regimes in the region. Suleiman is a favourite of Israel too; he held the Israel dossier and directed Egypt’s efforts to crush Hamas by demolishing the tunnels that have functioned as a smuggling conduit for both weapons and foodstuffs into Gaza.

According to a WikiLeak(ed) US diplomatic cable, titled ‘Presidential Succession in Egypt’, dated May 14, 2007:

“Egyptian intelligence chief and Mubarak consigliere, in past years Soliman was often cited as likely to be named to the long-vacant vice-presidential post. In the past two years, Soliman has stepped out of the shadows, and allowed himself to be photographed, and his meetings with foreign leaders reported. Many of our contacts believe that Soliman, because of his military background, would at least have to figure in any succession scenario.”

From 1993 until Saturday, Suleiman was chief of Egypt’s General Intelligence Service. He remained largely in the shadows until 2001, when he started taking over powerful dossiers in the foreign ministry; he has since become a public figure, as the WikiLeak document attests. In 2009, he was touted by the London Telegraph and Foreign Policy as the most powerful spook in the region, topping even the head of Mossad.

In the mid-1990s, Suleiman worked closely with the Clinton administration in devising and implementing its rendition program; back then, rendition involved kidnapping suspected terrorists and transferring them to a third country for trial. In The Dark Side, Jane Mayer describes how the rendition program began:

“Each rendition was authorised at the very top levels of both governments [the US and Egypt] … The long-serving chief of the Egyptian central intelligence agency, Omar Suleiman, negotiated directly with top [CIA] officials. [Former US Ambassador to Egypt Edward] Walker described the Egyptian counterpart, Suleiman, as ‘very bright, very realistic’, adding that he was cognisant that there was a downside to ‘some of the negative things that the Egyptians engaged in, of torture and so on. But he was not squeamish, by the way’. (p. 113).

“Technically, US law required the CIA to seek ‘assurances’ from Egypt that rendered suspects wouldn’t face torture. But under Suleiman’s reign at the EGIS, such assurances were considered close to worthless. As Michael Scheuer, a former CIA officer [head of the al-Qaeda desk], who helped set up the practise of rendition, later testified, even if such ‘assurances’ were written in indelible ink, ‘they weren’t worth a bucket of warm spit’.”

Under the Bush administration, in the context of “the global war on terror”, US renditions became “extraordinary”, meaning the objective of kidnapping and extra-legal transfer was no longer to bring a suspect to trial – but rather for interrogation to seek actionable intelligence. The extraordinary rendition program landed some people in CIA black sites – and others were turned over for torture-by-proxy to other regimes. Egypt figured large as a torture destination of choice, as did Suleiman as Egypt’s torturer-in-chief. At least one person extraordinarily rendered by the CIA to Egypt — Egyptian-born Australian citizen Mamdouh Habib — was reportedly tortured by Suleiman himself.

Suleiman the torturer

In October 2001, Habib was seized from a bus by Pakistani security forces. While detained in Pakistan, at the behest of American agents, he was suspended from a hook and electrocuted repeatedly. He was then turned over to the CIA, and in the process of transporting him to Egypt he endured the usual treatment: his clothes were cut off, a suppository was stuffed in his anus, he was put into a diaper – and ‘wrapped up like a spring roll’.

In Egypt, as Habib recounts in his memoir, My Story: The Tale of a Terrorist Who Wasn’t, he was repeatedly subjected to electric shocks, immersed in water up to his nostrils and beaten. His fingers were broken and he was hung from metal hooks. At one point, his interrogator slapped him so hard that his blindfold was dislodged, revealing the identity of his tormentor: Suleiman.

Frustrated that Habib was not providing useful information or confessing to involvement in terrorism, Suleiman ordered a guard to murder a shackled prisoner in front of Habib, which he did with a vicious karate kick. In April 2002, after five months in Egypt, Habib was rendered to American custody at Bagram prison in Afghanistan – and then transported to Guantanamo. On January 11, 2005, the day before he was scheduled to be charged, Dana Priest of the Washington Post published an exposé about Habib’s torture. The US government immediately announced that he would not be charged and would be repatriated to Australia.

A far more infamous torture case, in which Suleiman also is directly implicated, is that of Ibn al-Sheikh al-Libi. Unlike Habib, who was innocent of any ties to terror or militancy, al-Libi was allegedly a trainer at al-Khaldan camp in Afghanistan. He was captured by the Pakistanis while fleeing across the border in November 2001. He was sent to Bagram, and questioned by the FBI. But the CIA wanted to take over, which they did, and he was transported to a black site on the USS Bataan in the Arabian Sea, then extraordinarily rendered to Egypt. Under torture there, al-Libi “confessed” knowledge about an al-Qaeda–Saddam connection, claiming that two al-Qaeda operatives had received training in Iraq for use in chemical and biological weapons. In early 2003, this was exactly the kind of information that the Bush administration was seeking to justify attacking Iraq and to persuade reluctant allies to go along. Indeed, al-Libi’s “confession” was one the central pieces of “evidence” presented at the United Nations by then-Secretary of State Colin Powell to make the case for war.

As it turns out, that confession was a lie tortured out of him by Egyptians. Here is how former CIA chief George Tenet describes the whole al-Libi situation in his 2007 memoir, At The Center Of The Storm:

“We believed that al-Libi was withholding critical threat information at the time, so we transferred him to a third country for further debriefing. Allegations were made that we did so knowing that he would be tortured, but this is false. The country in question [Egypt] understood and agreed that they would hold al-Libi for a limited period. In the course of questioning while he was in US custody in Afghanistan, al-Libi made initial references to possible al-Qa’ida training in Iraq. He offered up information that a militant known as Abu Abdullah had told him that at least three times between 1997 and 2000, the now-deceased al-Qa’ida leader Mohammad Atef had sent Abu Abdullah to Iraq to seek training in poisons and mustard gas.

“Another senior al-Qa’ida detainee told us that Mohammad Atef was interested in expanding al-Qa’ida’s ties to Iraq, which, in our eyes, added credibility to the reporting. Then, shortly after the Iraq war got under way, al-Libi recanted his story. Now, suddenly, he was saying that there was no such cooperative training. Inside the CIA, there was sharp division on his recantation. It led us to recall his reporting, and here is where the mystery begins.

“Al-Libi’s story will no doubt be that he decided to fabricate in order to get better treatment and avoid harsh punishment. He clearly lied. We just don’t know when. Did he lie when he first said that al-Qa’ida members received training in Iraq – or did he lie when he said they did not? In my mind, either case might still be true. Perhaps, early on, he was under pressure, assumed his interrogators already knew the story, and sang away. After time passed and it became clear that he would not be harmed, he might have changed his story to cloud the minds of his captors. Al-Qa’ida operatives are trained to do just that. A recantation would restore his stature as someone who had successfully confounded the enemy. The fact is, we don’t know which story is true, and since we don’t know, we can assume nothing. (pp. 353-354)”

Al-Libi was eventually sent off, quietly, to Libya – though he reportedly made a few other stops along the way – where he was imprisoned. The use of al-Libi’s statement in the build-up to the Iraq war made him a huge American liability once it became clear that the purported al-Qaeda–Saddam connection was a tortured lie. His whereabouts were, in fact, a secret for years, until April 2009 when Human Rights Watch researchers investigating the treatment of Libyan prisoners encountered him in the courtyard of a prison. Two weeks later, on May 10, al-Libi was dead, and the Gaddafi regime claimed it was a suicide.

According to Evan Kohlmann, who enjoys favoured status among US officials as an ‘al-Qaeda expert’, citing a classified source: ‘Al-Libi’s death coincided with the first visit by Egypt’s spymaster Omar Suleiman to Tripoli.’

Kohlmann surmises and opines that, after al-Libi recounted his story about about an al-Qaeda–Saddam-WMD connection, “The Egyptians were embarassed by this admission – and the Bush government found itself in hot water internationally. Then, in May 2009, Omar Suleiman saw an opportunity to get even with al-Libi and travelled to Tripoli. By the time Omar Suleiman’s plane left Tripoli, Ibn al-Sheikh al-Libi had committed ‘suicide’.”

As people in Egypt and around the world speculate about the fate of the Mubarak regime, one thing should be very clear: Omar Suleiman is not the man to bring democracy to the country. His hands are too dirty, and any ‘stability’ he might be imagined to bring to the country and the region comes at way too high a price. Hopefully, the Egyptians who are thronging the streets and demanding a new era of freedom will make his removal from power part of their demands, too.

Lisa Hajjar teaches sociology at the University of California – Santa Barbara and is a co-editor of Jadaliyya.

This article first appeared on Jadaliyya.

The views expressed in this article are the author’s own and do not necessarily reflect Al Jazeera’s editorial policy.

Al Jazeera

http://english.aljazeera.net/indepth/opinion/2011/02/201127114827382865.html

Saturday, January 8, 2011

We must end war of words; resume dialogue: Ex-Jang Editor

By Abu Zafar Adil Azmi,

“We have to try to forget whatever happened in 1947 and to empower each other as good neighbors. The war of words should be stopped now. Both countries have their own problems. They don't have time to interfere in each other’s issues,” said Tarique Mahmood Shaam, former Editor-in-Chief of The Jang Group of Pakistan and presently Group Editor of ARY channel.


“The ruling party in Pakistan has positive thinking about India, and this is the high time to solve all problems and disputes between the two countries,” said Shaam. “We have to think in broad perspective and continue the dialogue process.” the veteran Pakistani journalist told this writer on his recent visit to New Delhi

'Aman ki Asha' (hope of peace), a peace initiative launched between the two countries by The Jang Group of Pakistan and Times of India, was the brainchild of this Pakistani journalist with international fame.

Talking about the peace initiative, he said that 'Aman ki Asha' could not get success in terms of reaching a large section of common people. It could not go beyond business line, he said.

“We will have to involve poets, writers and other literary personalities to make this initiative successful,” he said.

Highlighting the importance of India and Pakistan in today’s world, he said that the whole world, including the United States and Europe, wanted establishment of peace in both the countries. The whole world is interested in peace in the region because both the countries have largest market for different multinational companies, he pointed out.

Talking about the Kashmir dispute, he said that India is considered world’s largest democracy but why it failed to build up confidence in Kashmiris in the past 62 years. Why the innocent Kashmiris are worried about their rights, he asked.

On the question of insurgency and penetration into the internal security in India by militants, he said: “Nobody can deny that both countries are facing the repercussions of terrorism. Both India and Pakistan have concerns on security issues in the region. No substantial action is being initiated to resolve the issue on priority basis; only a blame game is going on between the two countries. The Indian Government says that Inter-Services Intelligence (ISI) sends militants here, and on the other side, the Pakistan Government says that India’s Research and Analysis Wing (RAW) is involved in terror activities in Pakistan.”

“But the important question is that how it is possible. How insurgents cross the line of control (LoC), and why our border security forces fail to trace them out,” Shaam questioned. Talking about the root of dispute between India and Pakistan, he said
“The people of India and Pakistan are more realistic than their politicians. Our politicians are not representing the sentiments of people of both sides. In Pakistan, there is a feudal system of administration.” He said that there were tribal administration in Punjab and Sind Provinces of Pakistan. There is no feudalism in India but ironically, cast system is deep rooted in the Indian society.

Politicians exploit people's sentiments and feelings on the name of caste, creed, religion and language. We are still very far away from our ideal democratic structure,” Shaam said sadly.

(The author is a Delhi-based journalist attached with Urdu monthly Afkar-e-Milli, and can be reached at abuzafar@journalist.com)
http://twocircles.net/2011jan08/we_must_end_war_words_resume_dialogue_exjang_editor.html_0

Friday, November 12, 2010

Will Indian Muslims welcome Obama?

By Abu Zafar Adil Azmi,

Will Muslim community in India welcome US President Barack Obama on his visit to the country next month? The US policies for and the situation in Middle East, Iraq and Afghanistan have not changed even after the White House changed its occupant. So, for Indian Muslims, is there any difference between Bush and Obama? Let’s read the mind of the community – their clerics, leaders and youth.

Qari Muhammad Usman Mansoorpuri, president of India’s largest and oldest Muslim organization, Jamiat Ulama-I-Hind, and vice rector of Islamic seminary Darul Uloom Deoband, says, “There is no difference between (former President George) Bush and Obama. Obama is following the Bush path in Palestine, Afghanistan and Iraq…He should fulfill his promise on Palestine."

Maulana Ataur Rahman Wajdi, President of the organization Wahdat-e-Islami, says the only difference between the policies of Bush and Obama is technique and approach.

But some clerics have a little soft approach towards Obama while some others have pinned hope in his understanding of the global situation and his gestures.

Mufti Mukarram, Shahi Imam of Masjid Fateh Puri in Delhi, says, “We do not hate or love him but Indian Muslims do not like the US policies. But how can we love the one who acts with injustice and oppression?"

Maulana Habibur Rahman Sani Ludhyaniwi, president of Majlis Al Ahrar, thinks that Obama is an improvement over Bush and that better relations might be possible. Indian Muslims still dislike the US but now they see some possibility for better relations, he said.

Mujtaba Farooq, political affairs secretary of Jamaat-e-Islami Hind, says that there is no way Muslims can welcome Obama.

Adeel Akhtar, president of the journalists’ union Journalism for Justice, says that Indian Muslims are not happy about the visit because they want to see changes in US policies.

Mahmood Asim, an undergraduate at Jamia Millia Islamia, said, "Obama is like the Indian National Congress in India and Bush was like the BJP. The policies of the BJP and Congress are same for Indian Muslims but the Congress has sweet poison for them," he said, meaning the BJP is direct in its opposition to Muslims while the Congress speaks of friendship but underneath is no different from the BJP.

When Bush visited India in 2006, Jamaat-e-Islami and other groups organized large protests in Mumbai and Delhi. On Obama’s visit also, the group is going to organize a convention on “Save the Nation from Poverty, Slavery and Imperialism”, said JIH media in-charge Dr SQR Ilyas. This is the best way to raise Muslims’ voices against US policies, he said.

abuzafar@journalist.com)

Monday, September 6, 2010

Variable colours of Ramadhan in India

Variable colours of Ramadhan in India
By: Abu Zafar Adil Azmi
After a complete year when sound of particular sirens heard in Jama Masjid, area of old Delhi, people stop eating, drinking and begin first fast. They rushed to neighborhood mosque as soon as they listen the call (Adhan). Tiny little children holding their father's fingers came to the mosque. They also woke up four hours earlier than usual with elders in their home. Mom explained million times to them that they are still young to fast, but they did not listen and keep fast.
According to Syed Affaf Qadri Nadvi, an Islamic cleric of Delhi, “Ramadhan is the ninth month of Islamic calendar , which begin after sighting of the crescent moon. This month is called holy month for Muslims because Quran was revealed during Ramadhan. Fasting is compulsory for Muslims in this month living throughout the world.”

There are different environment in Muslims populated area like Jama Masjid, Okhla, Jamia Nagar and Seelam Pur in Delhi. From dawn till dusk and from dusk till dawn, the spiritual environment is conducive for nurturing piety. Mosques full of worshipers, hotels are closed at day time and the Iftar market in evening all of these make a different environment. The Adhan and sounds of sirens are the bench mark of starting and breaking the fast.
80-year-old retired Teacher Mohammad Anis Siddiqui recall his memory and said “I’ve been listening voices of sirens in Delhi since 1955. But sometimes people would not get up. So now there are different trends going on some where announcements are made through mosques and at some places some people voluntarily walks to homes of a locality and announce this is dawn,time to eat ‘Sehar’. At some places people sing ‘Naat’ from mosque’s loudspeaker to woke people.
India is big country geographically spread from North to South and east to west. East to west is one hour earlier . This is why the time of Iftar and sehar in West Bengal and Assam, the eastern part of country is one hour earlier than Rajasthan, Gujarat, and the western part of country.


Handmade sewaii(vermicelli),made of wheat is the favourite dish of Delhites & northern part. But now there is no handmade Sewai or jiggery.” Said Abdul Qayyum a 70 years old farmer from Azamgarh. But now situation is totally changed, Taha a management graduate said “I like ‘feni’(milk cake) , vegetables and paratha at sehar time.”
Urban people from cities already sleep late in night but in the Ramzan period it extend more. So some people take sehar meal at late night and then sleep.
Liquid mixture of grinded coconut, cashew nut, and almond are very common at some parts of northern India like Azamgarh, Allahabad, Lucknow, Kanpur etc.
“In Maharashtra like Aurangabad Jalna and Pusad banana and milk are so popular in sehri.” Said Noor Deshmukh an engineer from ITT Delhi. But in southern part of country people like to eat date and rice. At some places ‘pao’, a special type of bread is in great demand in the month of Ramadhan and some part of eastern Utter Pradesh pao with milk is a favorite dish. Therefore bakeries try to compete making different shape and test of pao.
The schools timing is changed where the muslim students are in majority. After the fajr prayer muslim populated colonies are in silence mode. As soon as afternoon is over ,shops open and traffic is going to be jammed. In iftar market there were so many food items.
Mohammad Sajid, a student of philosophy from Jamia Millia Islamia says that ‘it seems that the Ramadhan is month of eating and drinking. Iftar and invitation for iftar was an old tradition but there were less qualities of food items as compared today.
Well known journalist MJ Akbar criticizes an iftar party,critically commenting in one of his column titling ‘A Political Iftar party in Mumbai’ according to him ‘politician’s limited brain with unlimited mischief thinks that the Iftar Party gives him an opportunity for future capitalization among the Muslim masses. It gives them the ultimate advantage of mixing with the Muslims where they can flex their political muscles without any opponent present in the ring! It provides them a pleasant platform to talk about the confluence of Ganga-Jamni tehzeeb (existence of pluralistic society) although their main aim is to garner Muslim votes. It is an attempt to showcase who is who of the politics.”
He further stated “It is a race to boost public image of the politician where parameter of power is measured on the basis of cash flow. It is a public relation exercise where each and every object of presentation (read flashbulbs, chairs, tables, plates, delicacies etc.) is chosen carefully after close scrutiny. It acts as an ointment to pacify old wounds of the Muslims! Iftar Party is like a fisherman’s net whose sole function is entrapment!”
Mosque has arrangement of iftar. Some unique cooked items are also shared in neighbors. At Kerala and Tamil Nadu, southern provinces of India most people usually break their fast in mosque and people from locality arrange it one by one. Abdul Jaleel, a political activist from Trisur district of Kerala said that every person wait for his number to arrange this iftar in local mosque and they consider it as good job. Azam Khan a journalist from Mumbai says that years before if a person like muslim seen at the time of iftar, local people invited him/her even today also it is popular in several places at Mumbai, Hyderabad, Lucknow and old Delhi but new colonies don’t follow these kind of tradition.

Wednesday, August 18, 2010

Situation in Kashmir and way forward

Situation in Kashmir and way forward
Panel discussion and press conference held at New Delhi

Abu Zafar Adil Azmi
abuzafar@journalist.com

New Delhi—At a panel discussion and press conference held on the Kashmir situation in the Press Club of India yesterday, participants expressed their sadness and anger regarding what they described as the attitude of the central and state government to the dispute which has claimed 51 lives since June. This discussion and conference was organized by ANHAD, a non-governmental organization. Academicians, human rights activists, journalists and lawyers participated.

Professor Siddiq Wahid, the vice chancellor of Islamic University of Science & Technology in Pulwama, Jammu & Kashmir said that today the population of Jammu & Kashmir is facing serious problems, particularly the youths. He also criticized the role of media on Kashmir. According to him, journalists have not seriously covered Kashmiri issues, preferring to write about the price rise and Commonwealth Games but they don’t have space to talk about Kashmir where people are being killed.
Anuradha Bhasin, the executive editor of the Kashmir Times, blamed the Indian judicial system for increasing problems in Kashmir. She said “The Indian system of justice has totally crumbled. It doesn’t exist in Kashmir. People have reposed faith in it time and again in the system and have always been let down.” She cited the Jaleel Andrabi murder and Shopian rape cases as examples. Jaleel Andarabi was allegedly killed while in the custody of the Indian Army in 1996 and two young women were allegedly gang raped and killed by central reserve police force (CEPF) in 2009, although officials have disputed those allegations.
“The gross human rights violations by the state and security agencies were never even questioned or objected to by the government of India. An entire generation has been born and brought up in the stifled environment of rapes, random arrests, blatant shoot-outs, nocturnal raids, disappearances, encounters etc, and they have always witnessed the ugly face of Indian democracy,” said Anuradha Bhasin.
Senior journalist Sayeed Malik said that the rule of law is breaking down in the valley. He said that in the past 60 days 51 civilians have been killed, mostly teenagers and youths. He also said that the people of Kashmir have constantly lived under the shadow of fear for the last 20 years, earlier it was the militancy and now Indian State responsible for that fear. He further stated that there were about 30 to 40 youths out of 51 who shot in the abdomen from the front. “If the intention was to disperse a mob, why were they shot in the abdomen?” he asked.

“In fact we are living in a ‘stone age’. There were no SMS, no prepaid phone, and no internet access. Schools and colleges are shut down. There are limitations in ATM to withdraw cash only up to 1000,” he said.
Tanveer Hussain Khan, a young activist from Kashmir, expressed the rationale behind the anger of the young Kashmiris who have been consistently denied any political dialogue and have been targeted with tear gas shelling or bullets at point blank range.

“People in the rest of India cannot imagine what it is to live in an occupied territory filled heavily with Army, Security Agencies, Paramilitary forces and so on” , said Vrinda Grover, a human rights lawyer of the Delhi High Court. She also said that the “Government of India had been bluffing with the people of Kashmir for so many years, running away from its responsibility by denying the right to Justice to the people and the civil society of India is complicit in the crimes of Indian State by keeping silence”.

The discussion and press conference was chaired by Historian Uma Chakravarty.

The participators demanded that the Government of India and the state ensure restraint by all security forces and respect for life in responding to protests. They also called for zero tolerance for any disproportionate or targeted use of force by the security forces and urged the repeal and withdrawal of the Armed Forces Special Powers Act and the Public Safety Act, which grant impunity to the security forces, according to them.
Other demands include:
*Immediate measures to initiate criminal prosecutions, legal proceedings, grant of sanction for prosecution against all security personnel indicted for human rights violations including enforced disappearances, extra judicial killings, and rapes.
*The government should constitute a credible commission to enquire into the complaints of human rights violations including the killing of civilians in the recent public protests.
* They called for a systematic reduction of troops from the state and a sustained and meaningful dialogue with Kashmiris.

Situation in Kasmir and way forward

Situation in Kasmir and way forward
Panel discussion and press conference held at New Delhi

Abu Zafar Adil Azmi
abuzafar@journalist.com

New Delhi—At a panel discussion and press conference held on the Kashmir situation in the Press Club of India yesterday, participants expressed their sadness and anger regarding what they described as the attitude of the central and state government to the dispute which has claimed 51 lives since June. This discussion and conference was organized by ANHAD, a non-governmental organization. Academicians, human rights activists, journalists and lawyers participated.

Professor Siddiq Wahid, the vice chancellor of Islamic University of Science & Technology in Pulwama, Jammu & Kashmir said that today the population of Jammu & Kashmir is facing serious problems, particularly the youths. He also criticized the role of media on Kashmir. According to him, journalists have not seriously covered Kashmiri issues, preferring to write about the price rise and Commonwealth Games but they don’t have space to talk about Kashmir where people are being killed.
Anuradha Bhasin, the executive editor of the Kashmir Times, blamed the Indian judicial system for increasing problems in Kashmir. She said “The Indian system of justice has totally crumbled. It doesn’t exist in Kashmir. People have reposed faith in it time and again in the system and have always been let down.” She cited the Jaleel Andrabi murder and Shopian rape cases as examples. Jaleel Andarabi was allegedly killed while in the custody of the Indian Army in 1996 and two young women were allegedly gang raped and killed by central reserve police force (CEPF) in 2009, although officials have disputed those allegations.
“The gross human rights violations by the state and security agencies were never even questioned or objected to by the government of India. An entire generation has been born and brought up in the stifled environment of rapes, random arrests, blatant shoot-outs, nocturnal raids, disappearances, encounters etc, and they have always witnessed the ugly face of Indian democracy,” said Anuradha Bhasin.
Senior journalist Sayeed Malik said that the rule of law is breaking down in the valley. He said that in the past 60 days 51 civilians have been killed, mostly teenagers and youths. He also said that the people of Kashmir have constantly lived under the shadow of fear for the last 20 years, earlier it was the militancy and now Indian State responsible for that fear. He further stated that there were about 30 to 40 youths out of 51 who shot in the abdomen from the front. “If the intention was to disperse a mob, why were they shot in the abdomen?” he asked.

“In fact we are living in a ‘stone age’. There were no SMS, no prepaid phone, and no internet access. Schools and colleges are shut down. There are limitations in ATM to withdraw cash only up to 1000,” he said.
Tanveer Hussain Khan, a young activist from Kashmir, expressed the rationale behind the anger of the young Kashmiris who have been consistently denied any political dialogue and have been targeted with tear gas shelling or bullets at point blank range.

“People in the rest of India cannot imagine what it is to live in an occupied territory filled heavily with Army, Security Agencies, Paramilitary forces and so on” , said Vrinda Grover, a human rights lawyer of the Delhi High Court. She also said that the “Government of India had been bluffing with the people of Kashmir for so many years, running away from its responsibility by denying the right to Justice to the people and the civil society of India is complicit in the crimes of Indian State by keeping silence”.

The discussion and press conference was chaired by Historian Uma Chakravarty.

The participators demanded that the Government of India and the state ensure restraint by all security forces and respect for life in responding to protests. They also called for zero tolerance for any disproportionate or targeted use of force by the security forces and urged the repeal and withdrawal of the Armed Forces Special Powers Act and the Public Safety Act, which grant impunity to the security forces, according to them.
Other demands include:
*Immediate measures to initiate criminal prosecutions, legal proceedings, grant of sanction for prosecution against all security personnel indicted for human rights violations including enforced disappearances, extra judicial killings, and rapes.
*The government should constitute a credible commission to enquire into the complaints of human rights violations including the killing of civilians in the recent public protests.
* They called for a systematic reduction of troops from the state and a sustained and meaningful dialogue with Kashmiris.

Situation in Kasmir and way forward

Situation in Kasmir and way forward
Panel discussion and press conference held at New Delhi

Abu Zafar Adil Azmi
abuzafar@journalist.com
Wednesday, August 11, 2010

New Delhi—At a panel discussion and press conference held on the Kashmir situation in the Press Club of India yesterday, participants expressed their sadness and anger regarding what they described as the attitude of the central and state government to the dispute which has claimed 51 lives since June. This discussion and conference was organized by ANHAD, a non-governmental organization. Academicians, human rights activists, journalists and lawyers participated.

Professor Siddiq Wahid, the vice chancellor of Islamic University of Science & Technology in Pulwama, Jammu & Kashmir said that today the population of Jammu & Kashmir is facing serious problems, particularly the youths. He also criticized the role of media on Kashmir. According to him, journalists have not seriously covered Kashmiri issues, preferring to write about the price rise and Commonwealth Games but they don’t have space to talk about Kashmir where people are being killed.
Anuradha Bhasin, the executive editor of the Kashmir Times, blamed the Indian judicial system for increasing problems in Kashmir. She said “The Indian system of justice has totally crumbled. It doesn’t exist in Kashmir. People have reposed faith in it time and again in the system and have always been let down.” She cited the Jaleel Andrabi murder and Shopian rape cases as examples. Jaleel Andarabi was allegedly killed while in the custody of the Indian Army in 1996 and two young women were allegedly gang raped and killed by central reserve police force (CEPF) in 2009, although officials have disputed those allegations.
“The gross human rights violations by the state and security agencies were never even questioned or objected to by the government of India. An entire generation has been born and brought up in the stifled environment of rapes, random arrests, blatant shoot-outs, nocturnal raids, disappearances, encounters etc, and they have always witnessed the ugly face of Indian democracy,” said Anuradha Bhasin.
Senior journalist Sayeed Malik said that the rule of law is breaking down in the valley. He said that in the past 60 days 51 civilians have been killed, mostly teenagers and youths. He also said that the people of Kashmir have constantly lived under the shadow of fear for the last 20 years, earlier it was the militancy and now Indian State responsible for that fear. He further stated that there were about 30 to 40 youths out of 51 who shot in the abdomen from the front. “If the intention was to disperse a mob, why were they shot in the abdomen?” he asked.

“In fact we are living in a ‘stone age’. There were no SMS, no prepaid phone, and no internet access. Schools and colleges are shut down. There are limitations in ATM to withdraw cash only up to 1000,” he said.
Tanveer Hussain Khan, a young activist from Kashmir, expressed the rationale behind the anger of the young Kashmiris who have been consistently denied any political dialogue and have been targeted with tear gas shelling or bullets at point blank range.

“People in the rest of India cannot imagine what it is to live in an occupied territory filled heavily with Army, Security Agencies, Paramilitary forces and so on” , said Vrinda Grover, a human rights lawyer of the Delhi High Court. She also said that the “Government of India had been bluffing with the people of Kashmir for so many years, running away from its responsibility by denying the right to Justice to the people and the civil society of India is complicit in the crimes of Indian State by keeping silence”.

The discussion and press conference was chaired by Historian Uma Chakravarty.

The participators demanded that the Government of India and the state ensure restraint by all security forces and respect for life in responding to protests. They also called for zero tolerance for any disproportionate or targeted use of force by the security forces and urged the repeal and withdrawal of the Armed Forces Special Powers Act and the Public Safety Act, which grant impunity to the security forces, according to them.
Other demands include:
*Immediate measures to initiate criminal prosecutions, legal proceedings, grant of sanction for prosecution against all security personnel indicted for human rights violations including enforced disappearances, extra judicial killings, and rapes.
*The government should constitute a credible commission to enquire into the complaints of human rights violations including the killing of civilians in the recent public protests.
* They called for a systematic reduction of troops from the state and a sustained and meaningful dialogue with Kashmiris.

Situation in Kasmir and way forward

Situation in Kasmir and way forward
Panel discussion and press conference held at New Delhi
Abu Zafar Adil Azmi
abuzafar@journalist.com
Wednesday, August 11, 2010
New Delhi—At a panel discussion and press conference held on the Kashmir situation in the Press Club of India yesterday, participants expressed their sadness and anger regarding what they described as the attitude of the central and state government to the dispute which has claimed 51 lives since June. This discussion and conference was organized by ANHAD, a non-governmental organization. Academicians, human rights activists, journalists and lawyers participated.

Professor Siddiq Wahid, the vice chancellor of Islamic University of Science & Technology in Pulwama, Jammu & Kashmir said that today the population of Jammu & Kashmir is facing serious problems, particularly the youths. He also criticized the role of media on Kashmir. According to him, journalists have not seriously covered Kashmiri issues, preferring to write about the price rise and Commonwealth Games but they don’t have space to talk about Kashmir where people are being killed.
Anuradha Bhasin, the executive editor of the Kashmir Times, blamed the Indian judicial system for increasing problems in Kashmir. She said “The Indian system of justice has totally crumbled. It doesn’t exist in Kashmir. People have reposed faith in it time and again in the system and have always been let down.” She cited the Jaleel Andrabi murder and Shopian rape cases as examples. Jaleel Andarabi was allegedly killed while in the custody of the Indian Army in 1996 and two young women were allegedly gang raped and killed by central reserve police force (CEPF) in 2009, although officials have disputed those allegations.
“The gross human rights violations by the state and security agencies were never even questioned or objected to by the government of India. An entire generation has been born and brought up in the stifled environment of rapes, random arrests, blatant shoot-outs, nocturnal raids, disappearances, encounters etc, and they have always witnessed the ugly face of Indian democracy,” said Anuradha Bhasin.
Senior journalist Sayeed Malik said that the rule of law is breaking down in the valley. He said that in the past 60 days 51 civilians have been killed, mostly teenagers and youths. He also said that the people of Kashmir have constantly lived under the shadow of fear for the last 20 years, earlier it was the militancy and now Indian State responsible for that fear. He further stated that there were about 30 to 40 youths out of 51 who shot in the abdomen from the front. “If the intention was to disperse a mob, why were they shot in the abdomen?” he asked.

“In fact we are living in a ‘stone age’. There were no SMS, no prepaid phone, and no internet access. Schools and colleges are shut down. There are limitations in ATM to withdraw cash only up to 1000,” he said.
Tanveer Hussain Khan, a young activist from Kashmir, expressed the rationale behind the anger of the young Kashmiris who have been consistently denied any political dialogue and have been targeted with tear gas shelling or bullets at point blank range.

“People in the rest of India cannot imagine what it is to live in an occupied territory filled heavily with Army, Security Agencies, Paramilitary forces and so on” , said Vrinda Grover, a human rights lawyer of the Delhi High Court. She also said that the “Government of India had been bluffing with the people of Kashmir for so many years, running away from its responsibility by denying the right to Justice to the people and the civil society of India is complicit in the crimes of Indian State by keeping silence”.

The discussion and press conference was chaired by Historian Uma Chakravarty.

The participators demanded that the Government of India and the state ensure restraint by all security forces and respect for life in responding to protests. They also called for zero tolerance for any disproportionate or targeted use of force by the security forces and urged the repeal and withdrawal of the Armed Forces Special Powers Act and the Public Safety Act, which grant impunity to the security forces, according to them.
Other demands include:
*Immediate measures to initiate criminal prosecutions, legal proceedings, grant of sanction for prosecution against all security personnel indicted for human rights violations including enforced disappearances, extra judicial killings, and rapes.
*The government should constitute a credible commission to enquire into the complaints of human rights violations including the killing of civilians in the recent public protests.
* They called for a systematic reduction of troops from the state and a sustained and meaningful dialogue with Kashmiris.

Friday, May 21, 2010

بوسنیا کی ’مقدس جنگ‘

بوسنیا کی ’مقدس جنگ‘



ابوظفر عادل اعظمی
بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے تقریبا 18 سال بعد دربوں کے سابق سربراہ راڈوان کروچ نے عدالت میں دئے گیے ایک بیان میں کہا ہے کہ سال 1992میں بوسنیا اور ہر زیگووینا میں مسلمانوں کے خلاف اس کی جنگ مقدس جنگ تھی۔سربوں کے سابق سربراہ کے اس بیان سے سیکولرزم کامکھوٹا لگاکر امن وشانتی کا درس دینے والے بے نقاب ہوئے ہیں بلکہ خود کو ترقی پسند اور روشن خیال گرداننے والوں کی حقیقی ذہنی پستی آشکارا ہوئی ہے۔
بوسینیا کی جنگ 1992میں سویت یونیں کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی تھی ۔سویت یونین کے خاتمے کے بعداس کے ماتحت رہنے والی بہت ساری ریاستوں کو آزادی مل گئی اور انہوں نے وہاں اپنی خودمختاری کااعلان کرکے علیحدہ حکومتیں قائم کرلیں۔لیکن بوسنیا،جہاں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے کو یہ آزادی نہیں دی گئی۔بوسنیا اور ہر زیگوونیا سے متصل ریاستیں سربیا اور یوگوسلاویہ کو امریکہ اور یوروپ نے معاشی ،سیاسی،سفارتی ہر طرح سے مدد کی۔جس کی وجہ سے وہ نہ صرف آزاد ہوئے بلکہ اپنے ہمسایہ بوسنیائی مسلمانوں کی آزادی چھیننے کے درپہ ہوگئے۔
بوسنیا کی جنگ ساڑھے تین سال جاری رہی ۔اس مدت میں دولاکھ سے زیادہ مسلمان سربوں اور کروٹسوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔بوسنیا کے شہر برسرنیکا میں صرف ایک دن میں 8ہزار مسلمان شہید کیے گئے۔امریکہ اور دیگر استعماری طاقتوں نے اس جنگ کو علاقائی اور گروہی جنگ سے تعبیر کیا۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بوسنیا اہل یوروپ کی آنکھ میںکانٹے کی طرح دھنس رہاتھا۔کہنے کو تو یوگوسلاویہ ایک کمیونسٹ ملک ہے اور وہاں ارتھوڈکس عیسائیت خاتمہ کے قریب تھی لیکن امریکہ ،یوروپ اور کمیونسٹ ممالک اپنی روایتی عداوت کو چھوڑ کر مٹھی بھر تہی مسلمانوں کے خلاف ایک ہوگئے۔ان کو خطرہ تھا کہ یوروپ کے دل کے اندر اگر اس طرح کی کوئی ریاست بن گئی جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی تو ان کے لیے بہت سارے مسائل کھڑے ہوجائیں گے ۔جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ 70سالہ طویل عرصے سے سویت یونین کے الحادی جبر کا شکاربوسنیائی مسلمان اپنے عقائد اورعبادات کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہوچکے تھے۔ان میں اسلامی اخلاقیات کا فقدان تھا ۔حتی کہ انہوں نے نام بھی مقامی طرز کے رکھ لیے تھے۔لیکن پھر بھی اہل کلیسا اور الحادپرست ان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل اندیشہ ناک رہتے تھے۔جب کہ سربیا اور یوگوسلاویہ میں عیسائیت پہلے ہی سے خاتمہ کے قریب تھی لیکن س جنگ کا ایک لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام او رمسلمانوں کی عداوت نے جہاں عیسائیت کی ٹمٹماتی لو میں کچھ تیزی لائی وہیں بوسنیائی مسلمانوں کے اسلام اورخداترسی میں قابل قدر اضامہ ہواہے۔
بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مدتوں سے ان کے پڑوسی رہے سرب اور کروٹس ہی ان کے قتل اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کے واقعات میں ملوث رہے۔بوسنیا کے مسلمان ساڑھے تین سال کی خونی جدوجہد کے بعد بھی فتح حاصل نہ کرسکے بلکہ استعماری چالوں نے ان پر ایک کنفیڈریشن تھوپ دیا۔یہ ایک نئے انداز کا جبر ہے جس کا آج بھی وہاں کے مسلمان شکارہیں۔اس کنفیڈریشن کو تھوپنے والا شخص ریچرڈہالبروک ہے جو اس وقت افغانستان اور پاکستان میںامریکہ کا خصوصی ایلچی ہے۔آزادی انسانوں اور قوموں کا بنیادی حق ہے لیکن لاکھوں افراد کی قربانی دینے کے بعد بھی بوسنیائی مسلمانوں کو آزادی نہ ملنا ایک تکلیف دہ بات ہے لیکن اس جنگ کا ایک خوش آئندہ پہلو یہ ہے اس سے وہاں کے مسلمان اپنے بل بوتے پر اپنے دینی وجود کو منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔استعمار کی پرانی چال ہے کہ جب وہ میدان میں ٹک نہیں پاتاتو معاہدہ اور صلح پر زور دیتاہے پھر جب اسے احساس ہوتاہے کہ ماحول سازگار ہوچلاہے تو معاہدوں کو پس پچت ڈال کر نئے سرے سے برسرپیکار ہوجاتاہے۔یا پھر ایسی صورت پر فریق مخالف کو راضی کرنے کی کوشش کرتاہے جس سے کوئی عبوری حکومت یا کنفیڈریشن جیسی حکومت تشکیل پائے جس سے دور دور تک کہیں اسلام کی بو نہ آرہی ہو۔روس سے ملحقہ علاقہ چیچنیا اس کی واضح مثال ہے۔
راڈون کروچ کی حقیقت بیانی سے ایک بار پھر مغرب کا عفریت بے نقاب ہواہے۔مغرب کو اپنے خودساختہ اصولوں پر بڑاناز ہے لیکن اس کے یہ اصول اس کی سب بڑی کمزوری ہیں اور اس کمزور ی کا اشتہاربھی۔اہل مغرب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کمزوریوں ،مجبوریوںاور پستیوں کو مثبت نام دے رکھاہے۔اور اس کی مسلسل تکرار واصرار نے اس کی نظر میں اس کو اور خوشنما بنادیا ہے۔جس کی وجہ سے اسے باقی ماندہ چیزیںمنفی اور صرف منفی نظرآتی ہیں۔ورنہ بوسنیا کی جنگ اپنی نہاد میں پہلے دن سے ہی خالص مذہبی اور صلیبی جنگ تھی۔اس کو گروہی اور علاقائی جنگ قرار دینے کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ اس سے عالم اسلام کو الگ پیغام دیناتھا۔قارئین کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ70سال کمیونسٹ رہا ملک کس طرح صلیبی جنگ لڑسکتاہے۔اسلام کو پس پشت ڈالنے اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کے لیے اہل مغرب بوقت ضرورت صلیبی ،صیہونی ،الحادی سب کچھ بن سکتے ہیں۔دنیا میںسیکولر اقدار کا سب سے بڑا دعوے دار ملک جب افغانستان کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ سکتاہے تو بوسنیاکی اس جنگ کو مقدس او ر صلیبی قرار دینے میں آپ کو تعجب کیوں ہے؟ (09540147251)

Wednesday, May 5, 2010

بٹلہ ہاوس انکاونٹر

بٹلہ ہاوس انکاونٹر
لہو پکارے ہے آستین کا
ابو ظفر عادل اعظمی


بٹلہ ہاوس انکاونٹر
کے ڈیڑھ سال بعداچانک پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ نیزیہ سوال مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ آخر حکومت اور عدلیہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟ واضح رہے کہ 13ستمبر 2008کو دہلی کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے محض 6دن بعد دہلی پولیس نے دھماکوں کی گتھی سلجھالینے کے دعوے کے ساتھ نئی دہلی کے جامعہ نگر علاقہ کے بٹلہ ہاو_¿س میں واقع L-18کے فلیٹ 108میں اعظم گڑھ کے دو طلبہ کوشہیدکردیا تھانیز ایک پولیس انسپکٹر بھی مارا گیا تھا۔ پولیس اسے انکاو_¿نٹر کہہ رہی تھیجب کہ حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس پرمتعدد سوالات اٹھائے تھے۔ جسے پوسٹ مارٹم رپورٹ نے نہ صرف تقویت دی ہے بلکہ دیگر کئی نئے سوالات بھی سامنے آگئے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم افروز عالم ساحل نے اس مبینہ انکاو_¿نٹر کے تعلق سے مختلف کاغذات کے حصول کے لئے حق اطلاع قانون (RTI)کے تحت متعدد بار مختلف سرکاری و نیم سرکاری دفاتر کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ کی فراہمی میں انہیں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ گیا۔ گذشتہ سال افروز عالم نے حق اطلاع قانون کے تحت قومی حقوق انسانی کمیشن سے ان دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بنیاد پر قومی حقوق انسانی کمیشن نے جولائی 2009میں بٹلہ ہاو_¿س انکاو_¿نٹر کے تعلق سے رپورٹ دی تھی۔ واضح رہے کہ قومی حقوق انسانی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس کو کلین چٹ دیتے ہوئے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ پولیس نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائی تھیں۔ ملی رہنماو_¿ں کے علاوہ حقوق انسانی کی متعدد تنظیموں اور سرکردہ صحافیوں نے اس رپورٹ کو جانبدارانہ اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔ ان حضرات کا کمیشن پر یہ بھی الزام تھا کہ کمیشن نے یہ رپورٹ صرف پولیس کے فراہم کردہ کاغذات اور اطلاعات پر تیار کی ہے۔ کمیشن نے اس معاملے کی تفتیش کے لئے نہ تو جائے واردات کا معائنہ کیا اور نہ ہی عاطف اور ساجد کے اہل خانہ و رشتہ داروں سے اس ضمن میں کوئی بات کی۔
افروز عالم ساحل کے مطالبہ پران کوکمیشن کی طرف سے یہ رپورٹ گذشتہ 17مارچ کو موصول ہوئی۔ کمیشن کے روانہ کردہ دستاویزات میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ پولیس کے ذریعہ کمیشن و حکومت کے سامنے داخل کردہ متعدد کاغذات کے عکس کے ساتھ خود کمیشن کی رپورٹ بھی شامل ہے۔
کیا کہتی ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ؟
قومی حقوق انسانی کمیشن کے ذریعہ فراہم کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عاطف و ساجد کے ساتھ انسپکٹر موہن چندرشرما کی بھی رپورٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق عاطف امین(24سال) کی موت شدید درد (Shock & hemorrhage)سے ہوئی اورمحمد ساجد(17) کی موت سر میں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ جب کہ انسپکٹر شرما کی موت کی وجہ گولی سے پیٹ میں ہوئے زخم سے بہت زیادہ خون کا بہنا درج ہے۔رپورٹ کے مطابق تینوں لوگوں (عاطف، ساجد اور موہن چند شرما) کو جوزخم لگے ہیں وہ موت سے پہلے کے (Antemortem in Nature)ہیں۔
رپورٹ کے مطابق محمد عاطف امین کے جسم پر 21 زخم ہیں۔ جس میں سے 20گولیوں کے ہیں۔ عاطف امین کو کل 10گولیاں لگیں ہیں اور ساری گولیاں پیچھے سے (پیٹھ کی طرف سے) لگی ہیں ۔8گولیاں پیٹھ پر، ایک دائیں بازو پر پیچھے سے اور ایک بائیں ران پر نیچے سے۔ 2X1سینٹی میٹر کا ایک زخم عاطف کے دائیں پیر کے گھٹنے پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ زخم کسی غیر دھار دار چیز سے یا رگڑ لگنے سے ہوا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں عاطف کی پیٹھ اور جسم کے کئی حصوں میں خراشوں کا تذکرہ ہے۔ جب کہ زخم 20میں جو بائیں کولھے کے پاس ہے سے دھات کاایک 3سینٹی میٹرمادہ بھی ملا۔
محمد ساجد کے جسم پر کل 14زخم ہیں۔ ساجد کو 5 گولیاںلگیں ہیں اور ان سے 12زخم آئے ہیں۔ جس میں سے 3گولیاں دائیں طرف پیشانی کے اوپر ، ایک گولی پیٹھ پر،بائیں طرف اور ایک گولی دائیں کندھے پرلگی ہیں۔ محمد ساجد کو لگنے والی تمام گولیاں نیچے کی طرف سے نکلی ہیں۔ جیسے ایک گولی جبڑے کے نیچے سے (ٹھوڑی اور گردن کے درمیان) سر کے پچھلے حصے سے اور سینے سے۔ ساجد کی رپورٹ میں کم از کم دو دھات کے مادے (Metalic Object)ملنے کا تذکرہ ہے جس میں سے ایک کا سائز 0.8X1سینٹی میٹر ہے جب کہ دوسرا مادہ پیٹھ پر لگے زخم (GSW 7)سے ساجد کی ٹی شرٹ سے ملا ہے۔ اس زخم کے پاس 5X1.5سینٹی میٹر لمبا کھال چھلنے اور خراش کا نشان بھی ہے۔محمد ساجد کی پیٹھ پر درمیان میں سرخ رنگ کی 4X2سینٹی میٹر کی خراش ہے۔ اس کے علاوہ دائیں پیر میں سامنے (گھٹنے سے نیچے)کی طرف 3.5X2 سینٹی میٹر کا گہرا زخم ہے۔ ان دونوں زخموں کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ زخم گولی کے نہیں ہیں۔ ساجد کولگے کل 14زخموں میں سے رپورٹ میں 7زخموں کو انتہائی گہرا (Cavity Deep) زخم قرار دیا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر بٹلہ ہاو_¿س انکاو_¿نٹر پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ متعدد حقوق انسانی کی تنظیموں اور سماجی شخصیات نے پولیس، حکومت اور عدلیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہوئے، قومی حقوق انسانی کمیشن کو بھی گھیرنے کی کوشش کی ہے۔کیوںکہ جولائی 2009میں حقوق انسانی کمیشن نے اسی پوسٹ مارٹم رپورٹ و دیگر دستاویز کی بنیاد پر پولیس کے موقف کہ اس نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی کو تسلیم کرتے ہوئے انکاو_¿نٹر کو جائز (Genuine) قرار دیا تھا۔ جب کہ عدالت عالیہ و عدالت عظمی اس واقعہ کی عدالتی تفتیش کا یہ کہہ کر انکار کرچکی ہیں کہ اس سے پولیس کے مورال گرنے کا اندیشہ ہے۔
انسپکٹر موہن چند شرما کے بارے میں رپورٹ کا کہنا ہے کہ بائیں کندھے سے 10سینٹی میٹر نیچے اور کندھے سے8سینٹی میٹر اوپر زخم کے باہری حصہ کی صفائی کی گئی تھی۔ موہن چندر شرما کو 19ستمبر 2008میں L-18میں زخمی ہونے کے بعد قریبی اسپتال ہولی فیملی میں داخل کیا گیا تھا۔ انہیں کندھے کے علاوہ پیٹ میں بھی گولی لگی تھی۔رپورٹ کے مطابق پیٹ میںگولی لگنے سے خون زیادہ بہا اور یہی موت کا سبب بنا۔ انکاو_¿نٹر کے بعد یہ سوال اٹھایا گیاتھا کہ جب موہن چندر شرما کو 10منٹ کے اندر طبی امداد حاصل ہوگئی تو پھر حساس ترین مقامات (Vital part)پر گولی نہ لگنے کے باوجود بھی ان کی موت کیسے واقع ہوگئی ہے؟ انکاو_¿نٹر کے بعد یہ بھی سوال اٹھایا گیا تھا کہ موہن چندر شرما کو گولی کس طرف سے لگی،آگے سے یا پیچھے سے۔ کیوں کہ اس طرح کی بھی آراءتھیں کہ شرما پولیس کی گولی کا شکار ہوئے ہیں۔ لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ اس کو واضح کرنے سے قاصر ہے، کیوں کہ ہولی فیملی اسپتال جہاں انہیں طبی امداد کے لئے لایا گیا تھا اور بعد میں وہیں ان کی موت بھی واقع ہوئی، میں ان کے زخموں کی صفائی کی گئی تھی۔ لہذا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر حتمی طور پر یہ نہیں بتا سکے یہ زخم گولی لگنے کی وجہ سے ہوا ہے یا گولی نکلنے کی وجہ سے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ انسپکٹر موہن چندر شرما کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) میں سفید سوتی کپڑے میں لپٹا ہوا لے جایا گیا تھا۔ اور ان کے زخم پٹی (Adhesive Lecoplast)سے ڈھکے ہوتے تھے۔ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ تفتیشی افسر (IO) سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ موہن چند شرما کے کپڑے فورنسک سائنس تجربہ گاہ میں لائیں۔ واضح رہے کہ موہن چند شرما کا پوسٹ مارٹم 20ستمبر 2008کو 12بجے دن میں کیا گیا تھا۔ اور اسی وقت یہ رپورٹ بھی تیار کی گئی تھی۔
محمد عاطف امین کے جسم پر تقریبا تمام گولیاں پیچھے سے لگی ہیں۔ 8گولیاں پیٹھ میں لگ کر سینے سے نکلی ہیں۔ ایک گولی دائیں بازو پر پیچھے سے باہر کی جانب سے لگی ہے۔ جب کہ ایک گولی بائیں ران پر لگی ہے اور یہ گولی حیرت انگیز طور پر اوپر کی جانب جاکر بائیں کولھے کے پاس نکلی ہے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے تعلق سے چھپی خبروں اور اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بیان دیاتھا کہ عاطف گولیاں چلاتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کررہا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ کتنے لوگ فلیٹ میں موجود ہیں لہذا کراس فائرنگ کی وجہ سے اسے پیچھے سے گولیاں لگیں۔ لیکن انکاو_¿نٹر یا کراس فائرنگ میں کوئی گولی ران میں لگ کر کولھے کی طرف کیسے نکل سکتی ہے؟ عاطف کے دائیں پیر کے گھٹنے میں 1.5x1سینٹی میٹر کا جو زخم ہے اس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہگولی چلاتے ہوئے وہ گر گیا تھا۔ پیٹھ میں گولیاں لگنے سےگھٹنے کے بل گرنا سمجھ میں آسکتا ہے لیکن ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ پھر عاطف کی پیٹھ کی کھال اتنی بری طرح سے کیسے ادھڑ گئی ؟
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عاطف کے دائیں کولہے پر 7سے6سینٹی میٹر کے اندر کئی جگہ رگڑ کے نشانات بھی پائے گئے ۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس کا بیان آیا کہ ساجد ایک گولی لگنے کے بعد گر گیا تھا اور وہ کراس فائرنگ کی زد میں آگیا۔ اس بیان کو گمراہ کن کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ ساجد کو جو گولیاں لگی ہیں ان میں سے تین پیشانی سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔جس میں سے ایک گولی ٹھوڑی اور گردن کے درمیان جبڑے سے بھی نکلی ہے۔ ساجد کے دائیں کندھے پر جو گولی ماری گئی ہے وہ بالکل سیدھی نیچے کی طرف آئی ہے۔ گولیوں کے ان نشانات کے بارے میں پہلے ہی آزاد فورنسک ماہرین کا کہنا ہے کہ یاتو ساجد کو بیٹھنے پرمجبور کیا گیا یا گولی چلانے والا اونچائی پر تھا۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت اس فلیٹ میں ممکن نہیں۔ دوسرے یہ کہ کراس فائرنگ تو آمنے سامنے ہوتی ہے نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف۔ ساجد کے دائیں پیر میں جو زخم ہے آخر وہ کیسے لگا؟ پشت اور جسم کے دوسرے مقامات پر خراش کے نشانات کیسے آئے؟
ساجد کے پیر کے زخم کے تعلق سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کسی غیردھاردار چیز (Blunt Force by object or surface) سے لگے ہیں پولیس اس کی وجہ گولی لگنے کے بعد گرنا بتارہی ہے لیکنکیا3.5x2سینٹی میٹر کاگہرا زخم فرش پر گرنے سے آسکتا ہے؟پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس الزام کی توثیق ہوتی ہے کہ عاطف اور ساجد کو شہید کرنے سے پہلے بری طرح زدوکوب کیا گیا ہے۔
قومی حقوق انسانی کمیشن کی ہدایت کے مطابق اس طرح کی اموات کے پوسٹ مارٹم کی ویڈیو گرافی کر اکے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ساتھ اسے بھی کمیشن بھیجا جائے۔ لیکن موہن چند شرما کی رپورٹ میں محض اس بات کا تذکرہ ہے کہ زخموں کی’ فوٹو‘ پر مشتمل سی ڈی سیل کرکے متعلقہ تفتیشی افسر کے حوالے کی گئی لیکن عاطف وساجد کی رپورٹ میں ایسا کوئی تذکرہ نظر نہیں آتا۔
موہن چند شرما کے بلٹ پروف جیکٹ نہ پہننے کے سوال پر قومی حقوق انسانی کمیشن کے ذریعہ فراہم کردہ کاغذات میں دہلی پولیس نے یہ دلیل دی ہے کہ پولیس افسران کا اس علاقہ میں بلٹ پروف جیکٹ میں دکھائی دینا ممکن نہ تھاکیوں کہ اس سے علاقہ کے لوگوں کو شک ہوسکتا تھا۔
کمیشن کو دی گئی تفصیل میںپولیس نے کہا کہ حقوق انسانی سے وابستہ کچھ ارکان نے اس بابت سوال اٹھائے کہ آخر دو ملزم عارض اور شہزاد جائے واردات سے کیسے بھاگ نکلے۔ پولیس نے اس کے جواب میں کہا کہ اوپر کل7پولیس اہلکار تھے اور پولیس ہی کے بیان کے مطابق عاطف و ساجد سمیت کل 5لوگ (عاطف، ساجد، سیف، شہزاداور عارض)اس فلیٹ میں اس وقت موجود تھے۔ پولیس کو جائے واردات سے ایک AK-47رائفل اور 30کیلیبرکی دو پستول برآمد ہوئی۔ سیف کے تعلق سے پولیس کا بیان ہے کہ وہ ٹوائلٹ میں چھپا تھا اور بعد میں خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ عارض اور شہزاد کے وہاں سے بھاگنے کے سوال پرپولیس کا کہنا ہے کہ فلیٹ 108میں دو دروازے ہیں۔جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو ایک دروازہ اندر سے بندتھاانھوں نے دوسرے دروازے کو دھکا دیا وہ کھل گیا۔جب وہ لوگ اس دروازے سے اندر داخل ہوئے اور فائرنگ شروع ہوئی تو عارض اور شہزاد بند دروازے کو کھول کر سیڑھی سے نیچے نکل بھاگے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ گولیوں کی آواز سن کر عمارت کے دوسرے فلیٹوں کے لوگ باہر نکل آئے جس سے انہیں بھاگنے میں آسانی ہوئی۔ لیکن جائے واردات کے عینی شاہدین کے مطابق فلیٹ کے سامنے کا طول و عرض تقریبا 6X4فٹ ہے۔ فلیٹ کے دونوں دروازے اس طرح واقع ہیں کہ اگر کوئی ایک شخص بھی فلیٹ کے دروازے پر کھڑا ہوجائے تو وہ دونوں دروازوں کو ڈھک لے گا۔ دوسرے سیڑھی پر اور نیچے پولیس اہلکار موجود تھے انھوں نےبھاگنے والوںکا پیچھا کیوں نہیں کیا؟
قومی حقوق انسانی کمیشن نے ان تمام دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی رپورٹ دی کہ پولیس نے اپنے دفاع میںگولی چلائی تھی۔ کمیشن نے اپنی اس رپورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو بری طرح پامال کیا تھا جس کے بعد نہ صرف کمیشن کی کارکردگی پر عوام نے انگلیاں اٹھانی شروع کردیں بلکہ عوامی احتجاج اور مظاہروں کا دور بھی شروع ہوگیا تھا۔
بٹلہ ہاو_¿س مبینہ انکاو_¿نٹر کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ مرکزی حکومت کے ساتھ عدالتیں بھی مسترد کرچکی ہیں۔ سب کی بس ایک ہی دلیل ہے کہ اس سے پولیس کا مورال گرجائے گا۔ مرکزی حکومت اور عدالتیں جب یہ دلیل دے کہ انکوائری کے مطالبے کو خارج کررہی تھیں اسی وقت دھرادون میں رنویرنامی ایک نوجوان کی انکاونٹر میں موت کی تفتیش ہورہی تھی اور آخر کار پولیس کو قصور وار ٹھہرایا گیا۔ آخر پولیس مورال کا یہ کون سا معیار ہے کہ اس کے تحفط کے لئے انصاف اور شفافیت کے اصولوں کو پامال کیا جارہاہے۔
انکاو_¿نٹر کے فورا بعد پولیس نے کہا کہ اس کو L-18کی جانکاری مفتی ابو البشر کے ذریعہ ہوئی ۔ مفتی ابوالبشر کو دھماکوں کے بعد احمد آباد سے دہلی لایا گیا تھا ۔ لیکن کرایہ دار کی تصدیق کے لئے مقامی تھانہ میں جمع کئے گئے (Tenant Verification ) فارم کو پر کرنے کی تاریخ 15اگست 2008درج ہے۔مقامی پولیس نے اپنے مہر اور دستخط کے ساتھ 21اگست کی تاریخ لکھی ہے۔ جب کہ مفتی ابو البشر کو اس سے قبل 14اگست ہی کو اعظم گڑھ سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس وقت تک عاطف امین و ساجد وغیرہ سریتا وہار کے فلیٹ میں رہتے تھے ۔ بعد میں پولیس نے یہ بیان دیا کہ وہ L-18تک عاطف کے موبائل فون سے پہنچی ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق عاطف انڈین مجاہدین کا سرغنہ ہے اور سال 2006کے بعد سے تمام دھماکوں کا ذمہ دار ہے۔ جے پور، احمد آباد دھماکوں کی بھی ذمہ داری عاطف کے سر ڈالی گئی ہے۔ لیکن گجرات پولیس کے مطابق مفتی ابو البشر اور توقیر دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ اور انڈین مجاہدین کے سربراہ ہیں۔ اس طور پر مفتی ابو البشر کی گرفتاری کو انڈین مجاہدین کے نام پر پہلی گرفتاری تصور کیا جاتا رہا ہے۔ شہباز حسین کو 25اگست 2008کو لکھنو سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شہباز کے بارے میں راجستھان پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ جے پور دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ عاطف ودیگر پر اتر پردیش کی عدالتوں میں ہونے والے دھماکوں کا بھی الزام ہے لیکن اس الزام میں حکیم محمد طارق قاسمی اور خالد مجاہد سمیت کئی لوگ پہلے سے گرفتار ہیں۔
بٹلہ ہاو_¿س انکاو_¿نٹر کے ڈیڑھ سال بعد اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کے عوامی ہونے پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے اور حقوق انسانی کے کارکنان اور انصاف پسند عوام کے انکاو_¿نٹر کی عدالتی جانچ کے مطالبہ میں شدت آنی یقینی ہے۔ حکومت ، انتظامیہ ، عدلیہ اور میڈیا نے اس پورے معاملے میں جو کردار ادا کیا وہ نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ اس سے ملک کے مسلمانوں اور دیگر انصاف پسند طبقے میں یہ احساس پید اہوا کہ آخرحکومت اس کی عدالتی تفتیش کیوںکترا رہی ہے؟ ظاہر ہے کہ عدالتی تفتیش حکومت کے ذریعہ ہی مقرر کیے گئے کسی موجودہ یا سابق جج کی نگرانی میں ہوگی لیکن عدالتی تفتیش کے مطالبے کو یکسر خارج کرنے سے ملک کا مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کے ساتھ دہرا معیار اپنایا جارہا ہے۔
سال 2008میںہوئے متعدد دھماکوں کے تعلق سے تجزیہ نگاروں کی آراءمختلف رہی ہیں۔ بعض لوگ ان تمام واقعات کو ہیڈلی کی ہندوستان آمد سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، جب کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی ترجمان ششما سوراج نے احمد آباددھماکوں کے بعدا خبار نویسیوں سے کہا تھا کہ یہ سب کانگریس کرارہی ہے کیوں کہ نیو کلیر ڈیل کے مسئلہ پر اعتماد کے ووٹ کے دن پارلیمنٹ میں نوٹ کی گڈیوں کے پہنچنےسے وہ پریشان ہے اور ان دھماکوں کے ذریعہ وہ عوام کے ذہن کو موڑناچاہتی ہے ۔
سماج وادی پارٹی سے برخاست ممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) امر سنگھ کے مطابق سونیا گاندھی، بٹلہ ہاو_¿س انکاو_¿نٹر کی جانچ کرانا چاہتی تھیں لیکن کچھ انتظامی مسائل کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکیں۔ البتہ انہوںنے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ انتظامی مسائل کیا تھے جو اس راہ میں حائل تھے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد جن نکات کو اٹھایا گیا، ان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت کو عوامی رائے کو یکسر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے وزیر داخلہ پی چدمبرم سے مل کر اعظم گڑھ سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار نوجوانوں کے مقدمات کو یکجا کرکے دہلی میں لانے کی درخواست کی ہے۔ یقینا یہ وقت کی آواز ہے اور ملزمین کو جلد انصاف دلانے کے لئے ضروری بھی لیکن اعظم گڑھ کے علاوہ پورے ملک میںسینکڑوں دوسرے مسلمان بھی اسی طرح کے الزام میں برسوں سے قید ہیںان کو بھی اس میں شامل کیا جاناچاہیے۔ جلد انصاف ہر شہری کا دستوری اور جمہوری حق ہے اس حق کی بحالی کے لئے موثر اقدام ناگزیر ہے۔
٭٭


abuzafar@journalist.com

انڈین مجاہدین پر پابندی کیوں نہیں؟

انڈین مجاہدین پر پابندی کیوں نہیں؟
ابو ظفر عادل اعظمی


گذشتہ 13فروری کو مہاراشٹر کے شہر پونہ کی جرمن بیکری میںہونے والے دھماکہ کے بعدسے ”انڈین مجاہدین“ نامی فرضی تنظیم کا نام ایک بار پھر سرخیوں میںہے ۔لہذا جہاد، اسلامی شدت پسندی، دہشت گردی جیسی اصطلاحات پر ہمارا میڈیا آزادی اظہار رائے کی آڑلے کر نفرتوں کے تیر برسانے میںمزید تیز گام ہوگیا۔لیکن مہاراشٹر کے ایک پولیس افسر کے ذریعہ مذکورہ دھماکوں میں ابھینو بھارت کا نام لینے پر وقتی طور پر یہ مہم سرد خانے میں ہے۔ انڈین مجاہدین نامی تنظیم کا نام سب سے پہلے جے پور دھماکوں کے بعدلیا گیا اور اس کے بعد سے تقریبا ہر دھماکہ کے بعد پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی زبان پر یہی نام رہا۔
سیکورٹی ایجنسیوں کا ایک طرف اصرار ہے کہ گذشتہ تقریبا 5سالوں میں ملک میں ہوئے مختلف دھماکوں کے لئے یہ ذمہ داری ہے دوسری طرف پولیس اسے ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موو_¿منٹ آف انڈیا (سیمی) کا نیا روپ کہہ رہی ہے۔ سیمی پر گذشتہ 9سالوں سے امتناع عائد ہے جب کہ وزارت داخلہ کے سکریٹری جی کے پلّئی نے گذشتہ 20فروری کو ایک چونکا دینے والا بیان دیا ہے کہ حکومت کا انڈین مجاہدین پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جی کے پلئی کا بیان پونہ دھماکہ تقریبا ایک ہفتہ بعد اس وقت آیا جب سیکورٹی ایجنسیوں نے پونہ اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں کے علاوہ ملک بھر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم چلا رکھی تھی۔ پورے ملک میں سینکڑوں لوگوں کو پوچھ تاچھ کے نام پر ہراساں کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ نے بھی انڈین مجاہدین اور سیمی کے خلاف محاذ چھیڑدیا لیکن ایسے وقت میں ہوم سکریٹری کا انڈین مجاہدین پر پابندی لگانے سے انکار کرنے والا بیان کافی اہم بھی ہے اور معنیٰ خیز بھی۔
سال 2008ءمیں ملک کے متعدد مقامات پر سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے۔ انڈین مجاہدین کا پہلی بار نام 13مئی کے جے پور دھماکوں کے بعد سامنے آیا۔ پولیس کو دھماکے بعد دہلی کے نواحی علاقہ صاحب آباد سے ایک ای میل موصول ہوا جس میں انڈین مجاہدین نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس طرح کی متعدد کارروائیاں کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پھر احمد آباد ، بنگلور ، سورت ، دہلی ہر دھماکہ کے بعد یا تو ایک ای میل موصول ہوتا یا پھر فون کال جس میں اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی بات کہی جاتی ۔ انڈین مجاہدین کے حوالہ سے پہلیگرفتاری اعظم گڑھ سے مفتی ابو البشر کی بتائی جاتی ہے۔ 14اگست 2008ءکو مفتی ابو البشر کی گرفتاری کے بعد گجرات کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس پی سی پانڈے میڈیاکے سامنے مسکراتے ہوئے یہ اعلان کرتے نظر آئے کہ انڈین مجاہدین سیمی کا بدلا ہوا نام ہے ان کے بقول SIMIمیں شروع کا’ایس ‘اور آخر کا’آئی‘نکال کر IM(انڈین مجاہدین)بنایا گیا ہے۔گجرات پولیس نے مفتی ابو البشر اور ممبئی کے سافٹ ویر انجینئر عبد السبحان عرف توقیر کو انڈین مجاہدین کا سربراہ بتایا۔ پھر گجرات سمیت پورے ملک میں گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو تا حال جاری ہے۔ اب تک سیکڑوں نوجوان انڈین مجاہدین کے لیبل کے تحت گرفتار کئے جاچکے ہیں اور بہت سارے نوجوان ایسے بھی ہیں جن کو پولیس نے مفرور اور مطلوب قرار دیا ہے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق انڈین مجاہدین کا تصور ایک دھائی پرانا ہے دہلی، اترپردیش کے متعدد اضلاع، مدھیہ پردیش ، راجستھان، کرناٹک ، آندھرا پردیش، گجرات، مہاراشٹر میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔ انڈین مجاہدین پر دھلی، احمد آباد، جے پور حیدر آباد (گوکل چارٹ)میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے علاوہ اتر پردیش کی عدالتوں ، وارانسی کے سنکٹ سوچن مندر اور گورکھپور میں دھماکوں کے لئے ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ممبئی پولیس نے انڈین مجاہدین کے نام پر ممبئی اور پونہ سے ستمبر 2008میں ایک ساتھ 21لوگوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب تک صرف اعظم گڑھ سے درجن بھر مسلم اس نام پر گرفتار کئے جاچکے ہیں جب کہ دو نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کو ستمبر 2008میں بٹلہ ہاو_¿س میں شہید کردیا گیا تھا۔
حکومت، سیکورٹی ایجنسیوں اور پولیس کے انڈین مجاہدین کے تعلق سے دئے جانے والے بیانات میں بہت زیادہ جھول سے عوام کے اندر شک و شبہات اول روز ہی سے سر ابھار رہے تھے اور کبھی کبھار میڈیا میں بھی اس کا تذکرہ ہوا۔ 12دسمبر 2007ءکو اعظم گڑھ کے رائے سرائے بازار سے حکیم محمد طارق قاسمی اور 16دسمبر کو منڈھیاو_¿ں بازار سے محمد خالد مجاہد کی گرفتاری کے بعد یوپی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ یہ دونوں لوگ اتر پردیش کی عدالتوں میں بم دھماکے کے ملزم ہیں اور اس کی سازش رچنے میں حرکت الجہاد الاسلامی (حوجی ) نامی تنظیم کا نام لیا گیا تھا۔ لیکن 19دسمبر کو بٹلہ ہاو_¿س کے فرضی انکاو_¿نٹر کے بعد عاطف امین ، محمد ساجد، محمد سیف اور عارف نسیم کو اس کےلئے قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان تمام دھماکوں کے علاوہ سال 2005میں شرم جیوی ایکسپریس میں ہوئے دھماکے کو بھی انڈین مجاہدین سے جوڑ دیا گیا ہے۔ 14اگست 2008کو اعظم گڑھ کے گاو_¿ں بینا پارہ سے مفتی ابو البشر اور 26اگست کو لکھنو_¿ سے شہباز حسین کی گرفتاری کے بعد دونوں کو بالترتیب احمد آباد اور جے پور دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا لیکن بٹلہ ہاو_¿س انکاو_¿نٹر کے بعد یہ سارے الزامات محمد عاطف امین کے سر منڈھ دئے گئے۔
26مارچ 2008کو مدھیہ پردیش پولیس نے اندور کے قریب ایک مکان سے سیمی کے سابق جنرل سکریٹری صفدر ناگوری سمیت 13لوگوں کو گرفتار کیا۔ پولیس کے دعوے کے مطابق یہ لوگ ملک کے متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنارہے تھے اور اس کے لئے انہوںنے مدھیہ پردیش، کیرلہ اور گجرات کے جنگلوں میں ٹریننگ کیمپ بھی منعقد کئے تھے۔اس سے چند ماہ قبل کرناٹک کے شہر ہبلی، بیلگام، بنگلور اور آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدر آباد سے بھی اسی طرح کے الزام میں درجنوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا لیکن ان میں سے کسی کے تعلق سے بھی انڈین مجاہدین نامی تنظیم کا کوئی نام سامنے نہیں آیا لیکن جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو پہلے سے قید افراد پر بھی انڈین مجاہدین سے تعلق رکھنے کا الزام لگا کر ایک طرف متعدد نئے مقامات قائم کئے گئے وہیں دوسری طرف ان پر مزید جبر و تشدد کا لائسنس حاصل کرلیا گیا۔
انصاف پسند عوام کو انڈین مجاہدین نام کی کسی تنظیم کے ہونے کا یقین نہ تو پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ مسلم قائدین و دیگرحقوق انسانی کے کارکنان نے اول روز ہی سے اس پر سوال کھڑے کئے تھے لیکن اگر واقعی اس نام کی کوئی تنظیم ہے اور وہ اتنی ساری ہلاکتوں اور قتل و خون کے لئے ذمہ دار ہے اور اتنے عرصے سے ملک میں بد امنی پھیلانے کے لئے کوشاں ہے تو اس کا نام ابھی کیوں آرہا ہے۔ اگر وہ 2005میں شرم جیوی ایکسپریس اور 2007میں اتر پردیش کی عدالتوں میں دھماکوں میں ملوث ہے تو اس نے اس وقت اس کی ذمہ داری کیوں نہ قبول کی اس نے صرف دہلی احمد آباد اور جے پور دھماکوں ہی کی ذمہ داری کیوں قبول کرلی؟
آخر انڈین مجاہدین کے اتنے خطرناک ”دہشت گرد“ دھماکوں کے بعد اپنے گھر میں کیوں رہ رہے تھے اور پولیس کو انہیں گرفتار کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اگر وہ دھماکوں کی سازش رچنے، بم رکھنے کے بعد اس فلیٹ میں کیوں ٹھہرے رہے جس کے لئے انہوںنے مقامی پولیس اسٹیشن میں Verificationفارم جمع کرایا تھا؟اس جیسے نہ جانے کتنے سوالات ہیں جو ہر خاص و عام زبان پر اس وقت بھی تھے اور اب بھی ہیں جن کا جواب ڈھونڈھا جانا ضروری ہے۔
گذشتہ مہینے مغربی بنگال کے دارالحکومت کو لکاتہ میں کئی بڑے تاجروں کو انڈین مجاہدین کی طرف سے دبئی اور نیپال سے فون موصول ہونے کی خبر میڈیا میں چھائی رہیں۔ ان میں ان سے کروڑوں روپیوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن دو تین دن کے بعد اس کے تعلق سے کوئی خبر نہیں آئی کہ آخر یہ فون دبئی سے کون کررہا تھا؟
انڈین مجاہدین کے تعلق سے ملک کا عام مسلمان مسلسل کنفیوژن کا شکار ہے۔اس کا ماننا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خون کو حلال کرنے اور ان کے نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا ایک عنوان ہے ۔اسی لئے تخریب کاری کی ہر واردات کو اس نا م سے جوڑا جاتاہے اور پھر گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔سیمی کے سابق کل ہند صدر ڈاکٹر شاہد بدر انڈین مجاہدین اور سیمی کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ انڈین مجاہدین آئی بی کی فرضی تنظیم ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں پر ظلم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر انڈین مجاہدین سیمی کا ہی حصہ ہے تو سیمی پر گذشتہ 9سالوں سے پابندی عائد ہے۔اصولی طور پر سیمی کی تمام ذیلی تنظیموں پر پابندی ہوگی۔ اس پر پابندی لگانے یا نہ لگانے کا سوال ہی بنیادی طورسے غلط ہے۔اب ہوم سکریٹری جی کے پلئی کاسیمی پرنئی پابندی لگانے کے ایک ماہ بعدیہ بیان دینا کہ” انڈین مجاہدین پر پابندی لگانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں“ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ الگ تنظیم ہے“۔اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر سیمی پر پابندی کے نوٹیفکیشن میں ان دھماکوں کو بنیاد کیسے بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے انڈین مجاہدین سے تعلق رکھنے کے الزام میں متعدد نوجوانون پہلے سے گرفتار ہیں۔
٭٭

مقبول فدا حسین اور تسلیمہ نسرین

مقبول فدا حسین اور تسلیمہ نسرین
دہرا رویہ کیوں؟
ابو ظفر عادل اعظمی

بالآخر مقبول فدا حسین نے قطر کی شہریت قبول کرلی اور تسلیمہ نسرین کے ویزے میں چھ ماہ کے بجائے
ایک سال کی توسیع ہوگئی۔ مقبول فدا حسین ہندوستان کے شہر ممبئی کے رہنے والے ہیں اور ہندو دیوی دیوتاو_¿ں کی قابل اعتراض تصویر بنانے کی پاداش میں گذشتہ 5سالوں سے خود ساختہ جلا وطنی کے زندگی گذا رہے ہیں، جب کہ تسلیمہ نسرین بنگلہ دیش کی رہنے والی ہیں اور اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہنے اور اسلام و مسلمانوں پر کیچڑ اچھالنے کے جرم میں ملک بدر کردیا گیا تھا جس کے بعد وہ ہندوستان کے شہر کلکتہ میں گذشتہ کئی سالوں سے مقیم ہے اور یہاں بھی اس نے اپنی مذموم حرکات کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دو اہم رخ ہیں۔ اسے دو رخی اور تعصب کا مکروہ چہرہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ یوں توپوری دنیا میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف باطل نے ہمہ گیر جنگ چھیڑ رکھی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا ملک ہندوستان جمہوری اقدار کے بلند بانگ دعووں کے باوجود بھی مسلسل ان کوششوں میں پیش پیش ہے۔ عمومی طور پر تو اعدائے اسلام نے اسلام پر ہر طرف سے حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کوششوں میںاللہ کے رسول کی ذات بطور خاص نشانہ رہی ہے۔
تسلیمہ نسرین بنگلہ دیش کی رہنے والی ہے۔ اس نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں متعدد بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، ازواج مطہراتؓ ، پردہ اور دیگر موضوعات پر انتہائی گمراہ کن اور نازیبا باتیں لکھیں ہیں۔پہلی مرتبہ جب اس نے اس یہ مذموم حرکت کی تھی تو بنگلہ دیش سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس کے خلاف صدا کے احتجاج بلند کی تھی اور بنگلہ دیش کی حکومت نے اس کو ملک بدر کردیا۔لیکن اس کو مسلمانوں کا دل جلانے کی وجہ سے ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ تب سے اپنی اسلام دشمنی کی روٹی کھارہی۔یہ عورت ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہے۔ اس ہنگامے کے بعدہندوستان میں قیام کے دوران بھی اس نے متعدد شر انگیز مضامین لکھے جس سے مسلمانوں کے جذبات شدید طور پر مجروح ہوئے اور انہوںنے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ متعدد بار کئی بڑے شہر اس آگ میں جھلس چکے ہیں اور سینکڑوں زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ سال 2008ءمیں جب تسلیمہ نسرین کے ویزا کی مدت ختم ہوئی تھی تو اس نے لندن کا رخ کرتے ہوئے ہندوستان پر سنگین قسم کے الزامات لگائے تھے اس نے کہا تھا کہ مجھے گھٹن سی محسوس ہورہی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ میں قید میں ہوں اس کے بعد بھی اسے نہ صرف ہندوستان میںرہنے کی جگہ دی گئی، بلکہ تحفظ کے لئے سخت ترین سیکورٹی فراہم کرکے دہلی میں کسی نامعلوم جگہ پر رکھا گیاہے اور چھ مہینے کے بجائے اس کے ویزے میں سال بھر کی توسیع کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک کا رویہ دوسرے شاتم رسول سلمان رشدی وغیرہ کے تعلق سے بھی ایسا ہی رہا ہے۔
مقبول فدا حسین بمبئی کے رہنے والے تھے، تجریدی آرٹ میں ان کا نام کافی مقبول ہے۔ ان کی پینٹنگ ہندو بیرون ہند قدرکی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ان کی بعض تصاویر کروڑوں روپیوں میں فروخت ہوئیں ۔انہیں پدم شری ، پدم بھوشن اور پدم وی بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے۔ لیکن فلموں کے پوسٹر بنانے سے شروعات کرکے تجریدی آرٹ تک پہنچنے والے ایم ایف حسین کی شخصیت کئی پہلوو_¿ں سے ناقابل فہم رہی اور یہی آگے چل کر بارہا متنازعہ بھی بنی۔فد احسین کو نہ جانے کیوں ننگے پیر رہنے کی عادت ہوگئی۔ لہذ ا وہ جہاں بھی جاتے ہیں، ننگے پیر ہی رہتے۔ پارلیمنٹ میں بھی ننگے پاو_¿ں آتے۔ ننگے پاو_¿ں ہی انہوںنے لندن ، پیرس اور امریکہوغیرہ کا سفر بھی کیا۔ ایک فائیواسٹار ہوٹل میں داخل ہوتے وقت سیکورٹی کے عملہ نے انہیں ننگے پاو_¿ں ہونے کی وجہ سے روک لیا جس کے بعد اچھا خاصہ ہنگامہ ہوا اس کے بعد ہوٹل کا منیجر انہیں منا کر اندر لے گیا۔ راجیہ سبھا میں اپنی پہلی مدت میں نہ تو انہوںنے کوئی تقریرکی نہ سوال کیا اور نہ ہی کسی بحث میںحصہ لیا البتہ اس کے بعد ایک آرٹ کے ذریعہ راجیہ سبھا کی کارروائی کا عکس انہوں نے ضرور کھینچا۔
اندرا گاندھی نے جب اپنے دور حکومت میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی تو فدا حسین نے اندرا گاندھی کی تصویر درگا کی شکل میں بنائی جسے اندرا گاندھی نے پسند کیا اور پارلیمنٹ میں آویزاں بھی کیا لیکن جب جنتاپارٹی برسراقتدار آئی تو اس نے اسے وہاں سے نکلوادیا۔ بعد میں جب پھر اندرا کی حکومت آئی تو انہیںراجیہ سبھا کی کرسی پیش کی گئی، شروع میں انہوںنے انکار کیالیکن دو سال کے بعد راضی ہوگئے۔ لیکن پارلیمنٹ میں ان کی حاضری انتہائی کم رہی ہے۔ ایم ایف حسین کے حوالے سے ایک دوسرے تنازعہ کا ذکر یوں کیا جاتا ہے کہ وہ 88 سال کی عمر میں اداکارہ مادھوری دکشت پر فدا ہوگئے ۔
ایم ایف حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندو دیوی دیوتاو_¿ں کی قابل اعتراض تصاویر بنائی تھیں۔ اس پر سب سے زیادہ ہنگامہ سال 2006میں ہوا ۔ پورے ملک میں ایم ایف حسین کے خلاف 900مقدمے قائم کئے گئے۔ ممبئی میں واقع ان کے گھر پر توڑ پھوڑ کی گئی اور ان کی پینٹنگس کو ضائع کردیا گیا۔ ان حالات میں وہ دبئی چلے گئے اور تب سے لندن، قطر اور دبئی میں دن گزارنے کے بعد اب قطر نے انہیں شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔جس کو انہوں نے قبول کرتے ہوئے اپنا ہندوستانی پاسپورٹ قطر میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کو سونپ دیا۔
آزادی اظہار رائے اور مظاہرہ فن کے نام پر ملک و بیرون ملک میں دونوں کے حامیوں کی بظاہر کمی نہیں ہے۔ بعض لوگ تو ایم ایف حسین کو مسلمانوں کا نمائندہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اخبارات اس موقع سے ایم ایف حسین اور تسلیمہ نسرین کی مظلومیت کا رونا روتے نہیں تھکتے لیکن یہ بات انتہائی واضح ہے کہ ان دو کرداروں میں ہندوستانی حکومت، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا رویہ انتہائی منافقانہ ہے۔ تسلیمہ نسرین شاتم رسول ہے اس نے ایک ایسی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی ناپاک کوشش کی ہے جسے ساری دنیاکے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔ صرف مسلم مورخین ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر تعلیم یافتہ اور باشعور شخص آپ کی قربانی اور آپ کے برپا کردہ انقلاب سے واقف ہے ۔ تسلمیہ نسرین نے ازدواج مطہراتؓ کی شان میں نازیبا اور گستاخانہ باتیں کی ہیں جس کے خلاف ملک وبیرون ملک کے مسلمانوں نے سخت مظاہرہ کیا، لیکن کروڑ وں مسلمانوں کے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک غیر ملکی عورت کو ہماری حکومت سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے ،اس کے تحفظ کے لئے کروڑوں اور اربوں روپئے خرچ کررہی ہے۔ اس کے نام پر متعددبار فسادات ہوچکے ہیں، متعدد جانیں ضائع ہوچکی ہیں، لیکن اظہار رائے کی گمراہ کن آزادی کے نعرے کے ان حامیوں کو اس کی پرواہ نہیں ہے لیکن دوسری طرف یہیں کا پلا بڑھا شخص جو دو دو مرتبہ ممبر پارلیامنٹ رہ چکا ہے اس کے تحفظ میںحکومت اور سیکورٹی ایجنسیاں ناکام ہےں۔واضح رہے کہ ایم ایف حسین پر ہندو دیوی دیوتاو_¿ں کی قابل اعتراض تصاویر بنانے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ اسلام تو بلا وجہ عام تصویر کھنچوانے سے بھی منع کرتا ہے۔ اسلام کا ماننا تو یہ ہے کہ کوئی سرسوتی، ننگی نہ رہے چہ جائے کہ اس کی ننگی تصویر بنائی اور دکھائی جائے،اور اس ننگے پن کو آرٹ اور فن کا نام دے کر نہ صرف اس کے لئے جواز پیدا کیا جائے یا ایسے انتہائی قابل مذمت افعال کوآزادی رائے، آرٹ اور فن کا نام دے کر ان الفاظ اور اصطلاحات کی اہمیت کو پامال کیا جائے۔ لیکن یہاں ایک نہیں بہت ساری سرسوتی ننگی ہیں، ننگے پوسٹر ننگی تصاویر کا جال ہے۔ ننگے مجسموں کی حفاظت کے لئے لاکھوں خرچ کئے جارہے ہیں اور افسوس تو اس بات کہ ان کو دھرم اور مذہب کی سند حاصل ہے اور پھر اسی ننگے پن کو آزادی اور آرٹ کا نام دے دیا گیا ہے ۔کیا ننگا پن ہی اس دور کا ”امتیاز“ ہے۔
فدا حسین کا جرم یہ تھا کہ ننگے پن کے اس کاروبار میں وہ بھی شریک ہوگئے اور ان کا نام مسلمان تھا۔ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ کسی بھی مذہب کے پیشوا کو برا نہ کہو، نہ ہی گالی دو اس کی تصویر کشی کرنا تو دور کی بات لیکن پھر ان ننگے مجسموں کے بارے میں ہمارے یہ دھرم کے ٹھیکہ دار کیا کہیں گے جو ملک بھر کے مختلف مندروں میںنصب ہیں۔ آخر ان کو کس نے بنایا؟ کس نے وہاں لگایا اور کیوں آج تک ان کا ”نظارہ “ کیا جارہاہے اور اس کو آرٹ اور قدیم کلچر کی سند دے کر لاکھوں کی کمائی کی جارہی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ”آزادی اظہار رائے“ اور ” پاسداری فن “ کے خوشنما نعروں کو یہ مغائر مظاہر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ٭٭



abuzafar@journalist.com

Sunday, April 18, 2010

बटला हाउस एनकाउंटर : क्या कहती पोस्टमार्टम रिपोर्ट ?

बटला हाउस एनकाउंटर

क्या कहती पोस्टमार्टम रिपोर्ट ?



अबू ज़फ़र आदिल आज़मी


बटला हाउस एनकाउन्टर के डेढ़ साल बाद पोस्टमार्टम रिपोर्ट के सार्वजनिक होने से एनकाउन्टर कीे न्यायिक जांच की मांग में फिर तेजी आ गई है। मानवाधिकार संगठनों और आम लोग इस एनकाउन्टर पर लगातार सवाल उठाते रहे हैं और अब पोस्टमार्टम रिपोर्ट ने उनके सवालों को अधिक गंभीर बना दिया है।

जामिया मिल्लिया इस्लामिया के छात्र अफरोज आलम साहिल ने इस तथाकथित एनकाउन्टर से सम्बंधित विभिन्न दस्तावेजों की प्रप्ति के लिए सूचना के अधिकार (RTI) के तहत लगातार विभिन्न सरकारी एवं गैर सरकारी कार्यालयों का दरवाजा खटखटाया किन्तु पोस्टर्माटम रिपोर्ट की प्राप्ति में उन्हें डेढ़ साल लग गए।

अफरोज आलम ने सूचना के अधिकार के अन्र्तगत राष्ट्रीय मानवाधिकर आयोग से उन दस्तावेजों की मांग की थी, जिनके आधार पर जुलाई 2009 में आयोग ने अपनी रिर्पोर्ट दी थी। ज्ञात रहे रहे कि राष्ट्रीय मानवाधिकार आयोग ने अपनी रिपोर्ट में दिल्ली पुलिस को क्लीन चिट देते हुए पुलिस का यह तर्क मान लिया था कि उसने गोलियां अपने बचाव में चलाई थी।
राष्ट्रीय मानवाधिकार आयोग द्वारा भेजे गये दस्तावेजों में पोस्टमार्टम रिपोर्ट के अलावा पुलिस द्वारा कमीशन और सरकार के समक्ष दाखिल किए गए विभिन्न कागजात के अलावा खुद आयोग की अपनी रिपोर्ट भी है।

पोस्मार्टम रिपोर्ट के अनुसार आतिफ अमीन 24 साल की मौत तेज दर्द (Shock & Hemorrh age) से हुई और मुहम्मद साजिद


(17 साल) की मौत सर में गोली लगने के कारण हुई है। जबकि इन्स्पेक्टर मोहन चन्द्र शर्मा की मृत्यु का कारण गोली से पेट में हुए घाव से खून का ज्यादा बहना बताया गया है। रिपोर्ट के अनुसार तीनों ;अतिफ, साजिद और एम सी शर्माद्ध को जो घाव लगे हैं वह मृत्यु से पूर्व (Antemortem in Nature) के हैं।

रिपोर्ट के अनुसार मोहम्मद आतिफ अमीन के शरीर पर 21 घाव हैं जिसमें से 20 गोलियों के हैं। आतिफ को कुल 10 गोलियां लगी हैं और सारी गोलियां पीछे से मारी गई हैं। 8 गोलियां पीठ पर, एक दांए बाजू पर पीछे से और एक बाई जांघ पर नीचे से। 2x1 सेमी का एक घाव आतिफ के दांए पैर के घुटनों पर है। रिपोर्ट के अनुसार यह घाव किसी धारदार चीज से या रगड़ लगने से हुआ है। इस के अलावा रिपोर्ट में आतिफ की पीठ और शरीर पर कई जगह छीलन है जबकि जख्म न. 20 जो बाएं कूल्हे के पास है, से धातु का एक 3 सेमी टुकड़ा मिला है।

मोहम्मद साजिद के शरीर पर कुल 14 घाव हैं। साजिद को कुल 5 गोलियां लगी हैं और उनसे 12 घाव हुए हैं। जिसमें से 3 गोलियां दांहिनी पेशानी के ऊपर, एक गोली पीठ पर बाएं ओर और एक गोली दाहिने कन्धे पर लगी हैं। मोहम्मद साजिद को लगने वाली तमाम गोलियां नीचे की ओर निकली हैं जैसे एक गोली जबड़े के नीचे से (ठोड़ी और गर्दन के बीच) सर के पिछले हिस्से से और सीने से। साजिद के शरीर से 2 धातु के टुकड़े (Metaiic Object)मिलने का रिपोर्ट में उल्लेख है, जिसमें से एक का साइज 8x1 सेमी है। जबकि दूसरा Metaiic Object पीठ पर लगे घाव (GSW -7) से टीशर्ट से मिला है। इस घाव के पास 5x1.5 सेमी लम्बा खाल छिलने का निशान है। पीठ पर बीच में लाल रंग की 4x2 सेमी की खराश है। इसके अलावा दाहिने पैर में सामने (घुटने से नीचे) की ओर 3.5ग2 सेमी का गहरा घाव है। इन देानों घावों के बारे में रिपोर्ट का कहना है यह घाव गोली के नहीं हैं। साजिद को लगे कुल 14 घावों में से रिपोर्ट में 7 घावों को बहुत गहरा (Cavity Deep) कहा गया है।

इनस्पेक्टर मोहन चन्द्र शर्मा के बारे में रिपोर्ट का कहना है कि बाए कन्धे से 10 सेमी नीचे घाव के बाहरी हिस्से की सफाई की गई थी। मोहन चन्द्र शर्मा को 19 सिमम्बर 2008 को एल–18 में घायल होने के बाद निकटतम अस्पताल होली फैमली में भर्ती कराया गया था। उन्हें कन्धे के अलावा पेट में भी गोली लगी थी। रिपोर्ट के अनुसार पेट में गोली लगने से खून का ज्यादा स्राव हुआ और यही मौत का कारण बना। एनकाउन्टर के बाद यह सवाल उठाया गया था कि जब शर्मा को 10 मिनट के अन्दर चिकित्सक सहायता मिल गई थी और संवेदनशील जगह (Vital Part) पर गोली भी नहीं लगी थी तो फिर उनकी मौत कैसे हो गई ? यह भी सवाल उठाया गया था कि शर्मा को गोली किस तरफ से लगी ,आगे से या पीछे से ? क्योंकि यह भी कहा जा रहा था कि शर्मा पुलिस की गोली का शिकार हुए हैं, लेकिन पोस्टमार्टम रिपोर्ट इसकी व्याख्या नहीं कर पा रही है। होली फैमली अस्पताल जहां उन्हें पहले लाया गया था और बाद में वहीं उनकी मौत भी हुई, में उनके घावों की सफाई की गई। लिहाजा पोस्टमार्टम करने वाले डाक्टर यह नहीं बता सके कि यह गोली के घुसने की जगह है या निकलने की। दूसरा कारण यह है कि शर्मा को एम्स में सफेद सूती कपड़े में ले जाया गया था और उनके घाव यहीं (Adhesive Lecoplast) से ढके हुए थे। रिपोर्ट में लिखा है कि जांच अफसर (I.O.) से निवेदन किया गया था कि वह शर्मा के कपड़े लैब में लाएं। ज्ञात रहे कि शर्मा का पोस्टमार्टम 20 सित्म्बर 2008 को 12 बजे दिन में किया गया था और उसी समय यह रिपोर्ट भी तैयार की गई थी।

मोहम्मद आतिफ अमीन को लगभग सारी गोलियां पीछे से लगी हैं। 8 गोलियां पीठ में लग कर सीने से निकली हैं। एक गोली दाहिने हाथ पर पीछे से बाहर की ओर से लगी है जबकि एक गोली बांईं जांघ पर लगी है और यह गोली हैरतअंगेज तौर पर ऊपर की ओर जाकर बायें कूल्हे के पास निकली हैं। पुलिस ने पोस्टमार्टम रिपोर्ट के सम्बन्ध में प्रकाशित समाचारों और उठाये जाने वाले सवालों का जवाब देते हुए यह तर्क दिया कि आतिफ गोलियां चलाते हुए भागने का प्रयास कर रहा था और उसे मालूम नहीं था कि फ्लैट में कुल कितने लोग हैं इसलिए क्रास फायरिंग में उसे पीछे से गोलियां लगीं लेकिन एनकाउन्टर या क्रास फायरिंग में कोई गोली जांघ में लगकर कूल्हे की ओर कैसे निकल सकती है? आतिफ के दाहिने पैर के घुटने में 1.5ग1 सेमी का जो घाव है इसके बारे में पुलिस का कहना है कि वह गोली चलाते हुए गिर गया था। पीठ में गोलियां लगने से घुटने के बल गिरना तो समझ में आ सकता है, लेकिन विशेषज्ञ इस बात पर हैरान हैं कि फिर आतिफ के पीठ की खाल इतनी बुरी तरह कैसे उधड़ गई? पोस्मार्टम रिपोर्ट के अनुसार आतिफ के दाहिने कूल्हे पर 6 से 7 सेमी के भीतर कई जगह रगड़ के निशानात भी पाए गए।

साजिद के बारे में भी पुलिस का कहना है कि साजिद एक गोली लगने के बाद गिर गया था और वह क्रास फायरिंग के बीच आगया। इस तर्क को गुमराह करने के अलावा और क्या कहा जा सकता है कि साजिद को जो गोलियां लगी हैं उन में से तीन पेशानी (Fore Head) से नीचे की ओर आती हैं। जिसमें से एक गोली ठोेड़ी और गर्दन के बीच जबड़े से भी निकली है। साजिद के दाहिने कन्धे पर जो गोली मारी गई है वह बिल्कुल सीधे नीचे की ओर आई है। गोलियों के इन निशानात के बारे में पहले ही स्वतन्त्र फोरेन्सिक विशेषज्ञ का कहना था कि या तो साजिद को बैठने के लिए मजबूर किया गया या फिर गोली चलाने वाला ऊंचाई पर था। जाहिर है दूसरी सूरत उस फ्लैट में सम्भव नहीं है। दूसरे यह कि क्रास फायरिंग तो आमने सामने होती है ना कि उपर से नीचे की ओर।

साजिद के पैर के घाव के बारे में रिपोर्ट में यह कहा गया है कि यह किसी गैर धार वस्तु (Blunt Force by Object or Surface) से लगा है। पुलिस इसका कारण गोली लगने के बाद गिरना बता रही है, लेकिन 3.5x2 सेमी का गहरा घाव फर्श पर गिरने से कैसे आ सकता है? पोस्टमार्टम रिपोर्ट से इस आरोप की पुष्टि होती है कि आतिफ व साजिद के साथ मार पीट की गई थी।

राष्ट्रीय मानवाधिकार आयोग के आदेशानुसार इस प्रकार के केस में पोस्टमार्टम की रिपोर्ट, वीडियो ग्राफी रिपोर्ट के साथ आयोग के कार्यालय भेजा जाए। लेकिन एम. सी. शर्मा की रिपोर्ट में केवल यह लिखा है कि घावों की फोटो पर आधारित सी. डी. सम्बंधित जांच अफसर के सुपुर्द की गई।

साल 2008 में होने वाले सीरियल धमाकों के बारे में विभिन्न रायें पाई जाती हैं। कुछ लोग इन तमाम घटनाओं को हेडली की भारत यात्रा से जोड़ कर देखते हैं। जबकि भारतीय जनता पार्टी की नेता सुषमा स्वराज ने अहमदाबाद धमाकों के बाद सवंाददाताओं से कहा था कि यह सब कांग्रेस करा रही है क्योंकि न्युक्लियर समझौते के मुद्दे पर लोकसभा में नोट की गड्डियों के पहुंचने से वह परेशान हैं और जनता के जेहन को मोड़ना चाहती है। समाजवादी पार्टी से निष्कासित सांसद अमर सिंह के अनुसार सोनिया गांधी बटला हाउस एनकाउन्टर की जांच कराना चाहती थी लेकिन किसी कारण वह ऐसा नहीं कर सकीं लेकिन उन्होंने इस का खुलासा नहीं किया कि वह कारण क्या है?

बटला हाउस एनकाउन्टर की न्यायिक जांच की मांग केन्द्रीय सरकार के अलावा न्यायाल भी नकार चुके हैं। सबका यही तर्क है कि इससे पुलिस का मोराल गिरेगा। केन्द्रीय सरकार और न्यायालय जब इस तर्क द्वारा जांच की मांग ठुकरा रहे थे, उसी समय देहरादून में रणवीर नाम के एक युवक की एनकाउन्टर में मौत की जांच हो रही थी और अंत में पुलिस का अपराध सिद्व हुआ। आखिर पुलिस के मोराल का यह कौन सा आधार है जिस की रक्षा के लिए न्याय और पारदर्शिता के नियमों को त्याग दिया जा रहा है।