Friday, May 21, 2010

بوسنیا کی ’مقدس جنگ‘

بوسنیا کی ’مقدس جنگ‘



ابوظفر عادل اعظمی
بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے تقریبا 18 سال بعد دربوں کے سابق سربراہ راڈوان کروچ نے عدالت میں دئے گیے ایک بیان میں کہا ہے کہ سال 1992میں بوسنیا اور ہر زیگووینا میں مسلمانوں کے خلاف اس کی جنگ مقدس جنگ تھی۔سربوں کے سابق سربراہ کے اس بیان سے سیکولرزم کامکھوٹا لگاکر امن وشانتی کا درس دینے والے بے نقاب ہوئے ہیں بلکہ خود کو ترقی پسند اور روشن خیال گرداننے والوں کی حقیقی ذہنی پستی آشکارا ہوئی ہے۔
بوسینیا کی جنگ 1992میں سویت یونیں کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی تھی ۔سویت یونین کے خاتمے کے بعداس کے ماتحت رہنے والی بہت ساری ریاستوں کو آزادی مل گئی اور انہوں نے وہاں اپنی خودمختاری کااعلان کرکے علیحدہ حکومتیں قائم کرلیں۔لیکن بوسنیا،جہاں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے کو یہ آزادی نہیں دی گئی۔بوسنیا اور ہر زیگوونیا سے متصل ریاستیں سربیا اور یوگوسلاویہ کو امریکہ اور یوروپ نے معاشی ،سیاسی،سفارتی ہر طرح سے مدد کی۔جس کی وجہ سے وہ نہ صرف آزاد ہوئے بلکہ اپنے ہمسایہ بوسنیائی مسلمانوں کی آزادی چھیننے کے درپہ ہوگئے۔
بوسنیا کی جنگ ساڑھے تین سال جاری رہی ۔اس مدت میں دولاکھ سے زیادہ مسلمان سربوں اور کروٹسوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔بوسنیا کے شہر برسرنیکا میں صرف ایک دن میں 8ہزار مسلمان شہید کیے گئے۔امریکہ اور دیگر استعماری طاقتوں نے اس جنگ کو علاقائی اور گروہی جنگ سے تعبیر کیا۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بوسنیا اہل یوروپ کی آنکھ میںکانٹے کی طرح دھنس رہاتھا۔کہنے کو تو یوگوسلاویہ ایک کمیونسٹ ملک ہے اور وہاں ارتھوڈکس عیسائیت خاتمہ کے قریب تھی لیکن امریکہ ،یوروپ اور کمیونسٹ ممالک اپنی روایتی عداوت کو چھوڑ کر مٹھی بھر تہی مسلمانوں کے خلاف ایک ہوگئے۔ان کو خطرہ تھا کہ یوروپ کے دل کے اندر اگر اس طرح کی کوئی ریاست بن گئی جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی تو ان کے لیے بہت سارے مسائل کھڑے ہوجائیں گے ۔جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ 70سالہ طویل عرصے سے سویت یونین کے الحادی جبر کا شکاربوسنیائی مسلمان اپنے عقائد اورعبادات کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہوچکے تھے۔ان میں اسلامی اخلاقیات کا فقدان تھا ۔حتی کہ انہوں نے نام بھی مقامی طرز کے رکھ لیے تھے۔لیکن پھر بھی اہل کلیسا اور الحادپرست ان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل اندیشہ ناک رہتے تھے۔جب کہ سربیا اور یوگوسلاویہ میں عیسائیت پہلے ہی سے خاتمہ کے قریب تھی لیکن س جنگ کا ایک لطیف پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام او رمسلمانوں کی عداوت نے جہاں عیسائیت کی ٹمٹماتی لو میں کچھ تیزی لائی وہیں بوسنیائی مسلمانوں کے اسلام اورخداترسی میں قابل قدر اضامہ ہواہے۔
بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مدتوں سے ان کے پڑوسی رہے سرب اور کروٹس ہی ان کے قتل اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کے واقعات میں ملوث رہے۔بوسنیا کے مسلمان ساڑھے تین سال کی خونی جدوجہد کے بعد بھی فتح حاصل نہ کرسکے بلکہ استعماری چالوں نے ان پر ایک کنفیڈریشن تھوپ دیا۔یہ ایک نئے انداز کا جبر ہے جس کا آج بھی وہاں کے مسلمان شکارہیں۔اس کنفیڈریشن کو تھوپنے والا شخص ریچرڈہالبروک ہے جو اس وقت افغانستان اور پاکستان میںامریکہ کا خصوصی ایلچی ہے۔آزادی انسانوں اور قوموں کا بنیادی حق ہے لیکن لاکھوں افراد کی قربانی دینے کے بعد بھی بوسنیائی مسلمانوں کو آزادی نہ ملنا ایک تکلیف دہ بات ہے لیکن اس جنگ کا ایک خوش آئندہ پہلو یہ ہے اس سے وہاں کے مسلمان اپنے بل بوتے پر اپنے دینی وجود کو منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔استعمار کی پرانی چال ہے کہ جب وہ میدان میں ٹک نہیں پاتاتو معاہدہ اور صلح پر زور دیتاہے پھر جب اسے احساس ہوتاہے کہ ماحول سازگار ہوچلاہے تو معاہدوں کو پس پچت ڈال کر نئے سرے سے برسرپیکار ہوجاتاہے۔یا پھر ایسی صورت پر فریق مخالف کو راضی کرنے کی کوشش کرتاہے جس سے کوئی عبوری حکومت یا کنفیڈریشن جیسی حکومت تشکیل پائے جس سے دور دور تک کہیں اسلام کی بو نہ آرہی ہو۔روس سے ملحقہ علاقہ چیچنیا اس کی واضح مثال ہے۔
راڈون کروچ کی حقیقت بیانی سے ایک بار پھر مغرب کا عفریت بے نقاب ہواہے۔مغرب کو اپنے خودساختہ اصولوں پر بڑاناز ہے لیکن اس کے یہ اصول اس کی سب بڑی کمزوری ہیں اور اس کمزور ی کا اشتہاربھی۔اہل مغرب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کمزوریوں ،مجبوریوںاور پستیوں کو مثبت نام دے رکھاہے۔اور اس کی مسلسل تکرار واصرار نے اس کی نظر میں اس کو اور خوشنما بنادیا ہے۔جس کی وجہ سے اسے باقی ماندہ چیزیںمنفی اور صرف منفی نظرآتی ہیں۔ورنہ بوسنیا کی جنگ اپنی نہاد میں پہلے دن سے ہی خالص مذہبی اور صلیبی جنگ تھی۔اس کو گروہی اور علاقائی جنگ قرار دینے کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ اس سے عالم اسلام کو الگ پیغام دیناتھا۔قارئین کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ70سال کمیونسٹ رہا ملک کس طرح صلیبی جنگ لڑسکتاہے۔اسلام کو پس پشت ڈالنے اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کے لیے اہل مغرب بوقت ضرورت صلیبی ،صیہونی ،الحادی سب کچھ بن سکتے ہیں۔دنیا میںسیکولر اقدار کا سب سے بڑا دعوے دار ملک جب افغانستان کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ سکتاہے تو بوسنیاکی اس جنگ کو مقدس او ر صلیبی قرار دینے میں آپ کو تعجب کیوں ہے؟ (09540147251)

No comments:

Post a Comment